خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 34
خطبات طاہر جلد ۹ 34 خطبہ جمعہ ۱۹/جنوری ۱۹۹۰ء مزید غور کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر ایمان لانے والے حقیقت میں ایمان نہیں لائے ہوئے ہوتے اور محض زبان کا ایمان ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا۔اب یہاں حقیقی ایمان کی بات ہو رہی ہے کہ تم نے ایک منزل تو طے کر لی۔تم نے اعلان کر دیا کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو لیکن محض یہ کافی نہیں۔اب تمہیں ایمان کی روح کو اختیار کرنا پڑے گا، ایمان میں ڈوبنا ہوگا اور اس فائدے کی تلاش کرنی ہوگی جو ایمان کے نتیجے میں لازماً عطا ہوتا ہے اور وہ فائدہ جس کا بعد میں ذکر فرمایا گیا ، وہ حقیقی ایمان اور غیر حقیقی ایمان کے درمیان تمیز کر کے دکھاتا ہے اور ایسی روشن تمیز کرتا ہے کہ اس کے نتیجے میں کسی ابہام کسی شک کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔اس مضمون کے تناسب سے بہت ہی خوبصورت جواب اس کا دیا گیا۔فرمایا: يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِهِ تم دو دفعہ ایمان لاؤ ، خدا تم پر دوہری رحمتیں کرے گا۔پہلے ایمان کے نتیجے میں بھی تم پر رحمت فرمائے گا اسے ضائع نہیں ہونے دے گا اور اس دوسرے ایمان کے نتیجے میں جو حقیقی ایمان ہوگا جو ایمان کی روح کو سمجھنے کے نتیجے میں نصیب ہوتا ہے تم پر خدا دو ہری رحمتیں نازل فرمائے گا اور مزید نتیجہ یہ نکالا کہ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِه اس ایمان کی علامت یہ ہے اور خدا تعالیٰ کے دوہرے فضل کی علامت یہ ہے کہ تمہیں ایک نو رعطا ہوگا جس کے ذریعے تم دیکھنے لگ جاؤ گے، تمہارے رستے روشن ہو جائیں گے۔تمہاری زندگی کی ہر راہ تم پر اس طرح واضح ہو جائے گی کہ اس میں تم ٹھوکروں سے محفوظ ہو جاؤ گے۔پس یہ وہ فرق ہے جو مومن کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔اگر کوئی شخص ایمان لاتا ہے تو اگر چہ ہمیں یہ کہنے کا حق نہیں کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ظاہری ایمان ہے حقیقی ایمان نہیں۔مگر قرآن کریم نے ہر ایسے دعویدار کے لئے ایک علامت کھول کر بیان فرما دی اور ہر شخص اس آیت کی روشنی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے یہ پہچاننے کی استطاعت رکھنے لگ گیا کہ آیا میرا ایمان حقیقی ایمان ہے یا نہیں جس کے نتیجے میں میں دوہری رحمتوں کا مستحق قرار دیا جاؤں اور پہچان کتنی واضح ہے نور عطا ہوگا۔ایسا نور جو تمہاری راہیں تمہارے لئے واضح فرما دے گا اور تم اندھوں کی طرح اندھیرے میں ٹولتے ہوئے نہیں چلو گے بلکہ تمہیں صاف رستے دکھائی دینے لگ جائیں گے۔یہ جو عرفان کا دوسرا جلوہ ہے یہ اس حقیقی ایمان کے نتیجہ میں نصیب ہوتا ہے اور اس کے بغیر مومن کی زندگی مکمل نہیں ہوتی اور در حقیقت مومن کا ایمان