خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 381 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 381

خطبات طاہر جلد ۹ 381 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۹۰ء کو دیکھا جائے تو اب تک یہ گھر سدھر نہیں سکا اور ہمارے تعلقات میں اسی طرح تلخیاں چلی آرہی ہیں۔میں خلوص نیت سے یہ چاہتا ہوں یا چاہتی ہوں جو بھی صورت ہو، یا اگر جمع کے صیغے کے لحاظ مضمون کو پیش نظر رکھیں تو ہم کے ذریعے اس بحث میں پڑے بغیر کہ مرد دعا کر رہا ہے یا عورت دعا کر رہی ہے مضمون اسی طرح بغیر کسی رخنہ کے حل ہو جاتا ہے تو یہ دعا کریں یعنی دونوں اپنی اپنی جگہ کہ ہم تو اپنے تعلقات کو سلجھانے میں ناکام رہے ہیں لیکن ہماری خواہش یہی ہے کہ جیسے تو نے ہمیں سکھایا ہم ایک دوسرے سے سکینت حاصل کریں اور ایک دوسرے سے آنکھوں کی ٹھنڈک حاصل کریں۔یہ دعا کرنے سے پہلے مقبول ہو جاتی ہے۔یعنی ایک حصے کے لحاظ سے کیونکہ یہ دعا کرنے والے اگر مخلص ہیں تو لازما وہ اپنے رجحان میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کر کے یہ دعا کرتے ہیں اور باقی جو حصہ ہے وہ خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔پس جیسے کہا جاتا ہے کہ آدھی جنگ تو لڑی گئی اور آدھے حصے پر تو انسان فتح یاب ہو گیا، ویسی ہی کیفیت اس دعا کی ہے جب خلوص نیت کے ساتھ کی جائے تو گویا آدھی جنگ تو لڑی گئی اور آدھا ملک فتح ہو گیا اور باقی حصہ جو ہے وہ خدا پر چھوڑا جائے تو لازماً ایسے مخلص انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ حالات کو تبدیل کر دیتا ہے۔جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے جن لوگوں کے آپس کے تعلقات بگڑے ہوئے ہوں یا نہ بھی بگڑے ہوئے ہوں لیکن ان میں رعونت کا دخل ہوا اور دونوں طرف انانیت کا دخل ہو یا بچپن کی غلط تر بیتوں نے ان کو اس بات کا اہل ہی نہ چھوڑا ہو کہ حسن معاشرت کر سکیں، ایسے لوگ یہ دعا نہیں کر سکتے اور جب تک یہ دعا نہ کریں ان کے حالات بدل نہیں سکتے۔ان تعلقات پر جب نظر پڑتی ہے تو بہت سے مختلف ایسے گوشے ہیں جن میں ہمیں بہت ہی زیادہ تکلیف دہ صورت حال دکھائی دیتی ہے۔میں ان تمام امور کا ذکر تو یہاں نہیں کر سکتا جو مجھ تک مختلف ذرائع سے پہنچتے رہتے ہیں اور نفسیاتی لحاظ سے ویسے ہی مجھے ایک اندازہ ہوتا ہے کہ بگڑے ہوئے گھروں میں یہ کچھ ہورہا ہوگا لیکن بعض باتیں ایسی تکلیف دہ ہیں کہ جن کا واضح طور پر ذکر کرنا ضروری ہے۔بعض خاوند ایسے ہیں جو اپنی بیویوں سے نہ صرف یہ کہ درشتی سے پیش آتے ہیں بلکہ ان کو ہمیشہ بدظنی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ گویا یہ عورت چال چلن کی اچھی نہیں ہے حالانکہ ان کے پاس کوئی ادنی سا بھی قرینہ اس بات کا نہیں ہوتا کہ اس عورت کے متعلق کوئی ایسی غلط سوچ