خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 374
خطبات طاہر جلد ۹ 374 خطبه جمعه ۲۹ جون ۱۹۹۰ء میں بھی حضرت نوح کا ایک غیر معمولی مقام ہے ایک نبی کی خاطر اور اس کے چند ماننے والوں کی خاطر ساری قوم کو ہلاک کر دینا ایک منفی پہلو رکھتا ہے اور ایک مثبت پہلو رکھتا ہے ۔ اس سے بڑی حضرت نوح کی صالحیت کی گواہی نہیں دی جا سکتی کہ خدا تعالیٰ نے اس ایک پاک بندے کے لئے اور اس کے چند ماننے والوں کے لئے اپنے غضب کا ایک ایسا عظیم نشان دکھایا ہے کہ گویا ساری قوم کی ان کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں اور جب حضرت نوح کا ظاہری بیٹا ڈوبنے لگا یعنی ظاہری بیٹا تو وہاں اس مضمون کو خوب کھول کر بیان کر دیا کہ ہم کیوں تجھے بچارہے ہیں اور کیوں ان کو ہلاک کر رہے ہیں ۔ اِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فرمایا کہ یہ بیٹا جو ہے یہ صالح اعمال نہیں رکھتا تو تیرا کیا خیال ہے کہ ہم تیری خاطر تجھے بچا رہے ہیں اور دنیا کو ہلاک کر رہے ہیں ۔ ہم تو تیرے اعمال صالح کی خاطر، ان کو بقا دینے کے لئے ، ان کی ہمیشگی کی زندگی دینے کی خاطر تجھے اور تیرے ساتھیوں کو بچارہے ہیں اور جوان اعمال صالحہ سے خالی ہیں ان کو ہلاک کر رہے ہیں تو یہ بیٹا تیرا بیٹا کیسے ہو گیا جو اعمال صالحہ کی حفاظت میں اور ان کو بقاء دینے کے لئے تیرے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں رکھتا بلکہ کاٹا جا چکا ہے۔ پس حضرت نوح کے متعلق یہ عظیم الشان گواہی خود بتاتی ہے ہے کہ کہ حضرت حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والے والسلام کا عمل صالح میں ایک بہت ہی بلند اور بالا اور ارفع مقام تھا۔ پس اس کے باوجود وہ بیٹا آپ کے زیر نظر ، آپ کی آنکھوں کے سامنے غیر صالح کے طور پر بڑا ہونا شروع ہوا۔اس کے بعد دنیا کا کون صالح انسان یہ دعوی کر سکتا ہے کہ میری نیکی جو ہے وہ لازماً میری تمام اولاد کو بچالے گی ۔ اس لئے نیکی اپنی انتہا کو بھی پہنچی ہو اور خدا کے ہاں قبولیت کی سند پا چکی ہو، اس کے باوجود ایسے حادثات ہو سکتے ہیں۔ اس لئے عجز کا مقام یہ ہے کہ انسان دعا ئیں کرے اور خدا تعالی کے حضور ہمیشہ یہ عرض کرتا رہے کہ اے خدا ! تو ہی ہے جو چاہے تو ہم میاں بیوی کو ایک دوسرے سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہماری اولاد کو متقی بنادے کیونکہ ایسی اولاد کا امام بننا ، یہاں امام سے مراد باپ کا یا ماں کا معنی رکھتا ہے یعنی دونوں کی چونکہ مشتر کہ دعا ہے اس لئے ماں بھی امامت میں شامل ہے اور باپ بھی امامت میں شامل ہے تو مراد یہ ہے کہ اے خدا ! ہمیں ان نسلوں کا ماں باپ بنا جو متقی ہوں اور ان کے بغیر ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب نہیں ہوگی ۔ اس میں تربیت کرنے والوں کے لئے ایک اور معرفت کا نکتہ بیان فرما دیا۔ جس کو بھلا کر کا