خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 373
خطبات طاہر جلد ۹ 373 خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۹۰ء بھی پیش فرما دیا اور منفی رنگ میں بھی پیش فرما دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ اپنی کوششوں پر انحصار کبھی نہ کرنا یہ ایسا تکبر ہے جو خدا کو پسند نہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ تربیت اولاد کے سلسلے میں محض انسانی کوشش کام نہیں دے سکتی۔اس کے بہت سے اسباب ہیں اور تربیت کا مضمون ایسا ہے جو اتنا وسیع ہے اور اتنا پھیلا ہوا کہ ناممکن ہے کہ کوئی ماں باپ اپنی کوششوں پر انحصار کرتے ہوئے اپنے بچوں کی اعلیٰ تربیت کی ضمانت دے سکے۔آج کل جو سائنس دان اس مضمون پر غور کر رہے ہیں وہ تو اس مضمون کے اندر اتنا گہرا اتر چکے ہیں کہ ان میں سے بعض یہ یقین کر بیٹھے ہیں کہ گویا تربیت کا تعلق خالصہ ان Coded Messages میں ہے ان پیغامات میں ہے جو کمپیوٹر کی طرح انسانی نسل کے خلیوں میں درج شدہ ہیں اور جو Gene جس قسم کا کردار بنانے والی ہے وہ ویسا ہی کردار بنائے گی اور انسان جو چاہے کرے بد بد ہی رہیں گے اور گویا نیک نیک ہی رہیں گے یہ ایک طرف کا حد سے زیادہ جھکاؤ ہے اور یہ غیر متوازن نظریہ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔دوسری بعض لوگ کہتے ہیں Genes کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے۔ہمارا معاشرہ ہے جو ہمیں جو کچھ چاہے بنا دیتا ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ماں باپ کی ابتدائی تربیت کا بہت حد تک دخل ہوتا ہے امر واقعہ یہ ہے کہ سارے امور ہیں اور ان کے علاوہ اور بھی بہت سے ہیں حادثات کا بھی دخل ہوا کرتا ہے۔ایک بچہ اتفاق سے بچپن میں سر کے بل گرتا ہے اور ایسی چوٹ پہنچ جاتی ہے کہ جس کے نتیجے میں اگر وہ پاگل نہ ہو تو مزاج بگڑ جاتا ہے اور بعض ایسے بچے باغیانہ مزاج رکھتے ہیں اور لڑتے رہتے ہیں اور بعض ایسے بچے عادات کے لحاظ سے اس طرح بگڑ چکے ہوتے ہیں کہ ان کے ماں باپ یا کسی اور کا ان پر بس نہیں ہوتا۔پھر اور قسم کی بیماریاں ہیں جو بچوں کو مفلوج کر دیتی ہیں۔بعض ذہن پر اثر کرتی ہیں بعض جسم پر اثر کرتی ہیں۔تو تربیت کا مضمون اتنا وسیع ہے کہ اگر کوئی ہوشمند انسان اس مضمون کی وسعت پر نگاہ ڈالے تو ناممکن ہے کہ اس کے دماغ میں یہ تکبر کا کیڑا داخل ہو سکے کہ ہم اگر تو بہ کر لیں ، ہم اگر اچھے ہو جائیں، ہم نیک اعمال کریں، اپنے بچوں کی نگرانی کریں تو بچے ضرور اچھے ہوں گے۔حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام سے زیادہ نیک تو وہ نہیں ہو سکتے کیونکہ غیر نبی کو نبی پر کلی فضیلت نہیں ہو سکتی۔حضرت نوح سے زیادہ اعمال صالحہ بجالانے والے نہیں ہو سکتے کیونکہ نبیوں