خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 368

خطبات طاہر جلد ۹ 368 خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۹۰ء اور ہمیں متقیوں کا امام بنا دے۔جہاں تک اس آیت کا تعلق ہے یہ ضروری نہیں کہ لا زمامیاں بیوی کے تعلقات اور خاندان کے حالات پر ہی اطلاق پاتی ہو وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما کی دعا بہت ہی وسعت رکھتی ہے اور اس آیت کے ٹکڑے میں ایک ایسا عظیم اور گہرا مضمون بیان ہوا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ عرفان کا دریا ایک کوزے میں سمیٹ دیا گیا ہے۔اور قرآن کریم میں کثرت سے ایسی آیات ہیں جن میں آپ یہ عجیب بات دیکھیں گے کہ پوری آیت اپنی ذات میں ایک مضمون کو بیان کر رہی ہے اور اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اپنی ذات میں عرفان کا ایک سمندر لئے ہوئے ہیں اور اس آیت سے جس کا وہ ٹکڑا ہیں الگ کر کے بھی ان کو پڑھا جائے تو ابدی سچائیاں ان میں پائی جاتی ہیں جو دوسرے مضمون کی محتاج نہیں ہیں ہاں اس مضمون کو چار چاند لگانے کے لئے موتیوں کی طرح یا ہیروں اور جواہرت کی طرح اس میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔پس یہ جو مضمون ہے اس کو میں نے آئندہ اسی سلسلے میں ایک خطبے کے لئے اٹھا رکھا ہے۔وہ میں پھر بیان کروں گا۔اس وقت میں گھریلو ذمہ داریوں کے متعلق ہی چند باتیں آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں جو اسی کلام الہی کی روشنی میں ہیں۔فرمایا وہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں اپنی بیویوں کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کر۔وہ خاوند جن کا ذکر کیا گیا ہے وہ اکثر ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو اپنی بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب نہیں ہوتی اور اس لئے وہ باہر دنیا میں بھاگتے ہیں اور اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔معاشرے میں کھو کی شادیاں نہ کرنا بھی اس کی ایک وجہ بن جاتی ہے۔بعض دفعہ عورت اپنی ذات میں نہایت نیک اور سلجھی ہوئی اور وفادار اور خاوند کی خدمت کرنے والی اس کے حقوق ادا کرنے والی ہے لیکن اس شادی کا جوڑ ملانے والوں نے خاوند اور بیوی کے مزاج کا ، ان کی عادات کا جوڑ نہیں ملایا۔چنانچہ ایسا خاوند گھر سے باہر گھر محسوس کرتا ہے اور گھر کے اندر یوں لگتا ہے جیسے گھر سے باہر نکل گیا ہے اور گھر کے اندر کا ماحول اس کو اس طرح بے چین کرتا ہے جس طرح مچھلی پانی سے باہر آگئی ہو۔تو یہ ساری کیفیت بالکل الٹ جاتی ہے۔حقیقت میں وہی گھر جنت بنتے ہیں جہاں انسان باہر سے جب لوٹتا ہے تو اسے سکون ملتا ہے۔وہ اپنے بھاری کپڑے اتار کر ہلکے کپڑے پہنتا ہے اور یوں لگتا ہے اس کے سارے بوجھ اتر گئے