خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 365 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 365

خطبات طاہر جلد ۹ 365 خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۹۰ء لَا يَشْهَدُونَ النُّور کا یہ بھی معنی ہے کہ جھوٹ پر جھانکتے بھی نہیں، جھوٹ کو دیکھتے بھی نہیں، جھوٹ سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں رمضان کے مہینے کے بارے میں یہی لفظ استعمال ہوا کہ جس نے رمضان کا مہینہ دیکھا۔مطلب یہ ہے کہ جس نے رمضان کا مہینہ پایا۔تو جھوٹ کے ساتھ ان کا دور کا بھی علاقہ نہیں وہ جھوٹ پر جھانکتے بھی نہیں۔پھر فرمایا وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزَّوْرَ وَ إِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا انہی معنوں میں یہ دوسرا مضمون بہت ہی خوبصورت رنگ میں پہلے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔جو لوگ جھوٹ کو نہیں دیکھتے وہ لغو چیزوں کو بھی نہیں دیکھتے۔پس جب وہ ایسی مجالس سے گزرتے ہیں جہاں بے ہودگیاں ہوں، جہاں ناپسندیدہ حرکات ہوں تو اغماض کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔تو بہت ہی حسین منظر ہے بچے لوگوں کا کہ نہ وہ جھوٹ کو دیکھتے ہیں، نہ ایسی چیزوں کو جن میں جھوٹ کی آمیزش ہو اور عزت نفس کو قائم رکھتے ہوئے وقار کے ساتھ وہ ایسی مجالس کے پاس سے گزر جاتے ہیں جہاں لغو باتیں جو درحقیقت جھوٹ کی آلائش رکھنے والی باتیں ہوتی ہیں کیونکہ جھوٹ کا معنی صرف یہ نہیں کہ خلاف واقعہ بات بیان کی جائے بلکہ لغو میں جھوٹ کا عنصر اس طرح شامل ہے کہ خیالی اور فرضی دلچسپیاں جوز بر دستی بتائی جاتی ہیں اور ان کا انسانی زندگی کی حقیقت سے کوئی گہرا تعلق نہیں ہوتا۔پس ایسی تمام دلچسپیاں جیسے جوا ہے اور اس قسم کی لغویات ہیں جو درحقیقت مصنوعی طور پر انسانی زندگی کو الجھانے کے لئے بنائی جاتی ہیں یہ ساری جھوٹ ہیں۔تو جھوٹ کے مضمون کو زیادہ لطافت کے ساتھ مزید وضاحت کے ساتھ یوں بیان فرما دیا کہ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَ إِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُ وا عَلَيْهَا صُمَّا وَعُمْيَانًا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب بھی خدا تعالیٰ کی آیات ان پر پڑھی جاتی ہیں لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمَّا وَ عُمْيَانًا وہ ان سے ایسا سلوک نہیں کرتے جیسا کوئی باتیں سننے والا بہرہ ہو یا کوئی مخاطب اندھا ہو جس پر نہ کلام کا حسن اثر کرے نہ کلام کرنے والے کا حسن اثر کر سکتا ہو۔دو ہی طرح سے انسانی زندگی متاثر ہوا کرتی ہے۔یا تو نصیحت سن کر یا نصیحت کرنے والے کے حسن سے متاثر ہو کر۔تو صُمَّا وَعُمْيَانًا میں یہ دونوں مضمون اس طرح باندھ کر بیان کر دئیے گئے کہ بعض لوگ نصیحت کرنے والے کو دیکھا کرتے ہیں۔اگر وہ صاحب وقار ہو، صاحب عظمت ہو ، اس کے حسن سے انسان متاثر ہو تو اس کی کڑوی باتیں بھی