خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 366 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 366

خطبات طاہر جلد ۹ 366 خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۹۰ء انسان برداشت کرتا ہے اور اس کی مشکل نصائح پر بھی عمل کرتا ہے۔بعض دفعہ نصائح اتنے حسین رنگ میں پیش کی جاتی ہیں کہ کہنے والا کوئی بھی ہو ، ان کو سن کر انسان ان سے متاثر ہو جاتا ہے۔فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی صفات یہ بیان کی گئی ہیں کہ یہ لوگ کبھی بھی نصیحت سے بہروں والا سلوک نہیں کرتے اور نصیحت کرنے والوں سے اندھوں والا سلوک نہیں کیا کرتے۔اس کا پہلے مضمون سے یہ گہرا تعلق ہے کہ نصیحت سننا اور نصیحت پر عمل کرنا کچھ تقاضے کرتا ہے۔ہر انسان نصیحت پر عمل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا خصوصا وہ لوگ جو جھوٹے ہوں اور وہ لوگ جن کولغویات کی عادت ہو ، ان کے لئے نصیحت پر عمل کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔چنانچہ مجھے بعض احمدی خواتین کے خطوط ملتے ہیں جن کے خاوند نیک نہیں ، ان کو دنیا کی دلچسپیوں کا زیادہ خیال ہے۔بنسبت دین کی ذمہ داریوں کے۔بعض ایسی نیک مائیں ہیں جو ان کے نیچے اس طرح زندگی بسر کرتی ہیں جس طرح حضرت آسیہ نے فرعون کے نیچے زندگی بسر کی تھی۔گو وہ شدت نہیں لیکن کسی حد تک مضمون وہی ہے۔جس کا کسی حد تک ان کی زندگی پر بھی اطلاق پاتا ہے۔پس ایسی عورتیں جن کی زندگی کسی نہ کسی رنگ میں آسیہ سے مشابہ ہے وہ بڑے دردناک طریق پر مجھے خطوط بھتی ہیں اور کہتی ہیں ، ہم چاہتی ہیں بچوں کی اچھی تربیت کریں لیکن ہمارا ماحول ایسا ہے کہ جس میں ہمارے لئے بڑی مشکلات ہیں، خاوند نماز نہیں پڑھتا، خاوند فلاں چیز کا عادی ہے، خاوند فلاں بات کا عادی ہے۔دنیا کی لغویات میں محو ہے اور بعض دفعہ جب میں آپ کا خطبہ سن کر بچوں کو سناتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ ان پر بہت گہرا اثر پڑا ہے تو میں کوشش کرتی ہوں کہ میرا خاوند بھی سنے اور اس پر بھی اثر پڑے۔چنانچہ جب وہ آتا ہے تو میں کسی بہانے سے وہ خطبہ لگا دیتی ہوں لیکن یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ اس پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا وہ دلچسپی نہیں لیتا وہ سنتا ہی نہیں وہ توجہ نہیں دیتا اور بعض دفعہ کہ دیتا ہے کہ یہ بند کرو، یہ تم نے کیا لگایا ہوا ہے۔تو قرآن کریم نے ان لوگوں کا نقشہ کھینچا ہے جو نصیحت سے متاثر نہیں ہو سکتے اور جن کو کوئی بات بھی خواہ نصیحت کرنے والا اچھا ہو یا اس کا ان کے ذہن میں کوئی وقار ہو یا بات اچھے رنگ میں پیش کی گئی ہو۔اس قسم کی کوئی بات بھی ان پر اثر نہیں کرتی۔گویا کہ وہ بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا پہلے ذکر گزر چکا ہے۔یہ اکثر وہ لوگ ہیں جو جھوٹے ہیں، جھوٹی گواہیاں دینے والے ہیں اور لغویات میں محو ہیں۔