خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 31

خطبات طاہر جلد ۹ 31 خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء تو بہت ہی دردناک اشعار ہیں اور جب آنکھ کھلی تو میرے دل پر بہت ہی اس بات کا گہرا اثر تھا اور غم کی کیفیت تھی کہ معلوم ہوتا ہے کہ سلسلے کے کوئی ایسے بزرگ جن کا خدا کے نزدیک ایک مرتبہ ہے رخصت ہونے والے ہیں جو انتظار کی راہ دیکھتے دیکھتے میرے جانے سے پہلے پہلے وصال پا جائیں گے۔دوسرے صبح جب ملک سیف الرحمن صاحب کے وصال کی اطلاع ملی تو اس وقت لاہور کے دوست چوہدری حمید نصر اللہ صاحب اور ان کے ساتھ ایک دو اور دکلاء بھی تھے یہ ملنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ان سے میں نے بیان کی اور میں نے کہا کہ میں نیک فال کے طور پر یعنی اگر چہ لفظ ” نیک فال کا اطلاق پوری طرح تو نہیں ہوتا مگر ان معنوں میں نیک فال کے طور پر کہ گویا انڈارٹل چکا ہے اور جو ہونا تھا ہو چکا ہے، اس خواب کے مضمون کو ملک سیف الرحمن صاحب کے وصال پر لگا رہا ہوں۔اگر چہ وہ اس عرصے میں ملتے بھی رہے ہیں لیکن جس مرتبے کے انسان تھے، خواب میں جیسا میرے ذہن پر اثر تھا کہ اس مرتبے کا کوئی انسان رخصت ہونے والا ہے یہ ان پر صادق آتا ہے اور دوسرا یہ خیال تھا کہ ملک صاحب کی خواہش تو بہر حال یہی ہوگی کہ میں بھی ربوہ جاؤں اور پھر ربوہ میں واپسی ہو اور اس تقریب میں شمولیت ہو تو اس خیال سے اگر اس پر اطلاق ہو جائے تو کوئی بعید از قیاس بات نہیں۔آپ کو میں یہ رویا بتاتے ہوئے اس دعا کی تحریک کرتا ہوں کہ اللہ کرے کہ انذار کا پہلو یہاں تک ہی ٹل جائے اور جو دوسرا پہلو ہے واپسی کا ، اس کے آثار جلد جلد ظاہر ہوں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ ایسی حالت میں لے کے جائے کہ کم سے کم تکلیف کی خبریں ملیں۔اب اس کے بعد خدا کرے یعنی میں تو دعا کے رنگ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ بظاہر چیز ناممکن بھی ہو تو دعا کے ذریعے ممکن بن سکتی ہے۔یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اب اس کے بعد واپسی تک کوئی فوت نہ ہو۔وفات کا جو سلسلہ ہے وہ تو جاری رہے گا لیکن دعا کرتے وقت یہ کہنے میں کیا حرج ہے کہ کوئی بھی نہ ہو، اس لحاظ سے میں آپ کو کہہ رہا ہوں کہ دعا کریں کہ کم سے کم لوگ، اگر فوت ہونا کسی کا مقدر بھی ہے تو کم سے کم لوگ اس عرصے میں وفات پائیں اور کم سے کم لوگوں کے متعلق پھر یہ دردناک مضمون صادق آئے کہ تھا جنہیں ذوق تماشہ وہ تو رخصت ہو گئے لے کے اب تو وعدہ دیدار عام آیا تو کیا