خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 30

خطبات طاہر جلد ۹ 30 30 خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء آخری حصہ اس کا یاد رہا جس کے مطابق پھر یہ غزل کہی گئی۔مضمون اس کا یہ تھا کہ لوگ آج کل کے زمانے میں ابتلاء کے زمانے میں ایسے ایسے اچھے شعر لکھ کر آپ کو بھجواتے رہتے ہیں نظمیں کہتے رہتے ہیں تو اجازت ہو تو میں بھی کہوں اک غزل آپ کے لئے“۔" غزل آپ کے لئے “ کے لفظ بعینہ وہی ہیں جو رویا میں دیکھے گئے تھے اور یہ کہوں میں یا کیا الفاظ تھے اس کی تفصیل یاد نہیں رہی۔چنانچہ اس ” آپ کے لئے“ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو میں نے غزل کہی اس کے پہلے چند اشعار اور آخری در اصل نعتیہ ہیں۔وہ میں نے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے کہے ہیں اور بیچ کے چند اشعار دوسرے مضامین کے بھی ہیں۔لیکن یہ میں سمجھا دینا چاہتا ہوں کہ وہ میں اپنے متعلق نہیں کہہ رہا نعوذباللہ من ذالك۔میں نے خود اپنے متعلق تو وہ غزل نہیں کہنی تھی اگر چہ کسی اور کے خیال سے بعض دفعہ انسان اپنے متعلق بھی ایک آدھ شعر کہہ لیتا ہے کسی کی زبان میں کہ گویا تم یہ چاہتے ہو کہ مجھے یہ پیغام دو۔ایسے بھی ایک دو شعر اس میں ہیں لیکن دراصل اس کے اکثر اشعار نعتیہ ہیں پہلے چند اور آخری خصوصیت کے ساتھ۔تو یہ اس کا پس منظر ہے جو امید ہے معلوم ہونے کے بعد اس غزل کی طر ز بھی سمجھ آجائے گی کہ کیا طرز ہے۔ایک اور رویا جس میں انذار کا پہلو بھی تھا اور ایک خوشخبری کا رنگ بھی رکھتی تھی۔وہ اگر چہ میں اپنے بعض دوستوں کے سامنے بیان کر چکا ہوں لیکن جماعت کے سامنے غالبا ابھی تک پیش نہیں کی۔جب حضرت ملک سیف الرحمن صاحب کا وصال ہوا ہے تو جس دن اس کی اطلاع ملی اس سے پہلی رات میں نے یہ رویا دیکھی کہ اقبال کی ایک مشہور غزل کے دو اشعار میں پڑھ رہا ہوں اور خاص اس میں درد کی ایک کیفیت ہے اور اقبال کی یہ وہ غزل ہے جو بچپن میں کالج کے زمانے میں مجھے بہت پسند تھی لیکن چونکہ مدت سے پڑھی نہیں، اس لئے خواب میں کوشش کر کر کے یاد کر کے وہ شعر پڑھتا ہوں اور پھر آخر یاد آجاتے ہیں اور وہ رواں ہو جاتے ہیں اور وہ شعر یہ تھے کہ تھا جنہیں ذوق تماشہ وہ تو رخصت ہو گئے لے کے اب تو وعدہ دیدار عام آیا تو کیا آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا