خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 354

خطبات طاہر جلد ۹ 354 ۲۲ جون ۱۹۹۰ء اور غیروں کو طمانیت کی طرف بلا نہیں سکتے اور اگر طمانیت آپ کو نصیب نہ ہو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اخلاق حسنہ سے ہی طمانیت نصیب ہوا کرتی ہے تو پھر آپ حقیقت میں جب بھی بات کرتے ہیں وہ بات بے وزن لگتی ہے۔اکثر بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ نے کچھ نہ کچھ انسان کو سمجھنے کی طاقت عطا فرمائی ہے۔ایک ایسا شخص جس کے چہرے پر شرافت ہو، لجاجت ہو، اطمینان ہو وہ چہرہ بالکل مختلف ہوا کرتا ہے اُن دنیا دار چہروں سے جو خواہ کیسے ہی دولت مند کیوں نہ ہوں، کیسے ہی اُن کو گھروں کی آسائشیں نصیب ہوں لیکن دل اُن کے اطمینان سے خالی ہیں۔چہروں پر ایک قسم کی بے قراری نظر آ جاتی ہے، آنکھوں میں ایک قسم کی بے چینی اور خلا کا احساس پیدا ہو جاتا ہے جو دیکھنے والی آنکھیں دیکھتی اور پہچانتی ہیں۔جیسا کہ ظاہری بیماریاں دکھائی دیتی ہیں آنکھوں میں اور چہرے کے آثار میں اسی طرح باطنی بیماریاں بھی دکھائی دیا کرتی ہیں۔تو آپ اپنے چہروں کو اپنے قلب کے اطمینان کے نور سے منور کریں اور اس کا طریقہ بالکل سیدھا سادھا وہی طریق ہے جو میں بیان کر رہا ہوں اس کے لئے کوئی خاص فارمولوں کی ضرورت نہیں اپنے اخلاق کی نگرانی کریں۔حسن خلق کا مطلب یہ نہیں کہ نرمی سے بات کر کے یا طمع کاری سے بات کر کے لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں۔حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ آپ سے کبھی کسی کو کوئی ضرر نہ پہنچے۔ہر دوسرے شخص کا معاملہ آپ کے ہاتھ میں اس طرح قابلِ اعتماد ہو کہ جیسے اُس کے اپنے ہاتھ میں ہے بلکہ بسا اوقات وہ لوگ جو سچے اخلاق سے مزین ہوتے ہیں اُن کے ہاتھوں میں بعض لوگوں کے معاملات زیادہ محفوظ ہوتے ہیں جبکہ ان کے اپنے ہاتھوں میں نہیں ہوتے۔کئی دفعہ کا مجھے پرانا تجربہ ہے جب وقف جدید میں میں اپنے طور پر مریضوں کی خدمت کیا کرتا تھا بعض غیر احمدی عورتیں اپنی امانت رکھوا جایا کرتی تھیں اور احمدی عورتیں بڑی دور سے آتی تھیں اور امانت رکھوا جاتی تھیں۔اُن سے میں کہتا تھا کہ تمہیں کوئی اور جگہ نہیں تم اپنے پاس کیوں نہیں رکھتیں، کہ جی ہمیں پتا کوئی نہیں ہم نے اپنے پاس رکھی تو ضائع ہو جائے گی۔یہاں یہ یقین ہے کہ ضائع نہیں ہوتی۔ایک دفعہ ایک ایسی خاتون تشریف لائیں۔خاتون تھیں یا جوڑا تھا مجھے یاد نہیں بہر حال غیر احمدی ہمارے ربوہ کے ہمسائے میں رہنے والے لوگ تھے اُنہوں نے اپنی ایک قیمتی امانت میرے سپرد کی کہ آپ اس کو اپنے پاس رکھ لیں جب ضرورت پڑے گی ہم لے لیں گے۔میں