خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 352
خطبات طاہر جلد ۹ 352 ۲۲ جون ۱۹۹۰ء ہیں جب کسی اور گھر کی بیٹیاں اُن کے گھر آتی ہیں تو ان سے پیار اور محبت کی بجائے اپنی اولاد کی محبت کا اظہار اس طرح کرتی ہیں کہ اس کے اندر کیڑے ڈالنے شروع کر دیتی ہیں اور اس سے اپنے بیٹے کو بدظن کرتی ہیں، اپنے خاوند کو بدظن کرتی ہیں اور اگر بیٹا اُس کے حقوق ادا کرے تو وہ کہتی ہیں کہ تو ہم سے بھاگ گیا ہے، تجھے ماں باپ کی کوئی فکر ہی نہیں رہی۔تو گھر بسانے کی بجائے گھر اجاڑتی ہیں اس لئے میں نے ایسی ماؤں کا نام جاہل مائیں رکھا ہے۔بد اخلاق نہیں میں کہتا جاہل ہیں۔معمولی عقل بھی ہو تو انسان ایسے کام نہ کرے کہ جس چیز سے پیار ہو اُس کی زندگی برباد کر رہا ہو لیکن عموماً جاہل مائیں یہی کیا کرتی ہیں۔اپنی اولاد کی زندگی بھی برباد، دوسروں کی اولا د کی بھی زندگی بر باداور یہ بچے جب گلیوں میں نکلتے ہیں تو معاشرے کے لئے ہلاکت خیز ہو جاتے ہیں۔مصیبت پھیلائی ہوتی ہے ،سکول جاتے ہیں تو بد تمیزیاں ، گندی گالی گلوچ ، لوگوں کی چیزیں اُچکنا اور دوسرے بچوں کو مارنا کوٹنا اور پھر گھر میں آ کر پناہ لیتے ہیں اور اگر ان بچوں کے ماں باپ اس گھر تک پہنچیں تو پھر دیکھیں ان ماؤں کو کس طرح شیر نیوں کی طرح باہر نکل کر لڑتی ہیں اور گندی گالیاں دیتی ہیں اور کہتی ہیں تم ہوتے کون ہو میرے بچے پر ہاتھ اُٹھانے والے، میرے بچے کو بُرا بھلا کہنے والے۔یہ واقعات اس شدت سے احمدیت میں نہیں پائے جاتے ہوں گے لیکن پاکستان کی گلی گلی گواہ ہے کہ ہم نے اپنی قوم کو جاہل ماؤں کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اور یہ نظارے کوئی ایک دو جگہ کے نظارے نہیں ہیں سارے ملک میں ہر جگہ پھیلے پڑے ہیں اور احمدیت میں بھی ایسی مائیں ہیں جو اپنی بدنصیبی سے اپنی جہالت کی وجہ سے اپنی اولا دوں کو خراب کرتی ہیں۔قوم کے اخلاق کا معیار ماؤں کے اخلاق کے معیار کے مطابق ہوگا اور یا درکھیں کہ اگر ماؤں کے اخلاق بلند ہو جائیں تو ایسی قوم کے اخلاق الا ماشاء اللہ شاذ کے طور پر خراب ہو سکتے ہیں مگر قوم کے طور پر اُن کے اخلاق خراب نہیں ہو سکتے۔اس لئے لجنہ اماءاللہ کو بھی میں خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں لیکن احمدی خواتین کو بالعموم اور احمدی باپوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے گھر میں قوام بنیں اپنے گھر کے حالات پر نظر رکھیں اور کیونکہ خدا تعالیٰ نے اُن کو قوام فرمایا ہے جس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈنڈا اٹھا کر مارنے کوٹنے والا جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدھا کرنے والا اور جو مرد اپنی بیوی کو صحیح رستے پر چلا نہ سکتا ہو اس کے اخلاق کا نگران نہ ہو اس کے معاملات کو