خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 342
خطبات طاہر جلد ۹ 342 خطبہ جمعہ ۱۵ جون ۱۹۹۰ء ہو گئی لیکن اب یہ طبع ہو رہی ہے۔اس کے علاوہ حسب ذیل تراجم مکمل ہو چکے ہیں اور میں نے ہدایت کر دی ہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ ان کو طبع کروایا جائے اور اس کے ساتھ ہی آئندہ معاً بعد شائع ہونے والے لٹریچر کے متعلق بھی منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔نماز اور اس کے مسائل “ یہ بہت ہی اہم ضرورت ہے اور روس کے مسلمان بار بار مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اس قسم کا لٹریچر دو کیونکہ ہمیں تو کچھ بھی نہیں پتا۔یعنی آباؤ اجداد سے جو کچھ اسلام سیکھا ہوا تھا وہ سب بھلایا جا چکا ہے۔نماز اگر پڑھنی آتی ہے تو اس کا ترجمہ نہیں آتا لیکن نئی نسلوں کو تو نماز پڑھنی بھی نہیں آتی۔نماز کا ترجمہ پھر اس کے مسائل سادہ سادہ چھوٹے چھوٹے مسائل جو آسانی سے ذہن نشین ہو سکیں ان سے متعلق یہ کتاب تیار کروائی گئی ہے جو سلسلے کی طرف سے مختلف کتب نماز کے موضوع پر تھیں ان میں سے کچھ حصے اخذ کر کے کچھ باتیں زائد کر کے ایک بہت ہی جامع مانع آسان زبان کی کتاب ہے جو انشاء اللہ روس میں بہت مقبولیت پائے گی۔"Revival of Religion" یہ غالباً آسٹریلیا یا نجی میں میری ایک تقریر تھی ، اس کا انگریزی ترجمہ ہے جس سے آگے روسی ترجمہ کروالیا گیا ہے۔”یسر نا القرآن“ کا قرآن کا پڑھنا سکھانا بھی بہت ضروری ہے۔ان لوگوں کو تو اب بالکل قرآن پڑھنا ہی نہیں آتا سوائے چند علماء کے جو باہر کی یونیورسٹیز میں جا کر عربی سیکھتے رہے ہیں۔کروڑ ہا مسلمان عوام الناس ایسے ہیں جو قرآن کریم کی ایک سطر بھی نہیں پڑھ سکتے۔پس ان کے لئے روسی زبان میں میسر نا القرآن پیش کرنا ضروری تھا۔چنانچہ اس کے لئے میں نے مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر سے اجازت حاصل کی کیونکہ اس رسالے کے جو حقوق ہیں وہ پیر صاحب مرحوم نے حضرت میر صاحب کی اولاد کے نام کر دیئے تھے اور پہلے میر داؤ د احمد صاحب اس کے انچارج تھے۔اب میرمحمود احمد صاحب ناصر اور میر مسعود احمد صاحب ہیں۔چنانچہ میں نے ان سے اجازت لی اور انہوں نے بڑی خوشی سے اجازت دی کہ آپ اس سے استفادہ کریں جتنی زبانوں میں بھی ضرورت ہو جس طرح چاہیں استفادہ کریں تو یہ بتادیتا ہوں کہ یہ کام اجازت لے کر کیا جارہا ہے اور جماعت میں اس اخلاقی نکتہ کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جو رسالہ جو کتاب جماعت کی طرف سے شائع ہوئی ہے اس کو بغیر اجازت از خود شائع نہیں کروانا چاہئے۔یہ دنیا کے مسلمہ اخلاق کے خلاف بات ہے اس لئے پہلے تحقیق کرنی چاہئے کہ کون اس کے حقوق رکھتا ہے اور جس کے حقوق کے متعلق معین معلوم نہ ہو اس کے متعلق جماعت سے اجازت لینی