خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 341

خطبات طاہر جلد ۹ 341 خطبه جمعه ۱۵/جون ۱۹۹۰ء دنیا میں تو غالباً جہاں تک میرا علم ہے کوئی ایسا چوبان میسر نہ آسکا جو اس وقت تک کہ خدا ان کے راستے کھول دے ان کی چوبانی کرتا لیکن میرا کامل ایمان ہے۔ایک ذرہ بھی مجھے اس میں شک نہیں کہ اس تمام عرصے میں خدا تعالیٰ ان کی چوبانی کرتا رہا ہے اور ان کو ضائع ہونے سے بچاتا رہا ہے خدا کی یہ تقدیریں جو نئے نئے رنگ میں ظاہر ہوتی ہیں۔یہ آپس میں گہراتعلق رکھتی ہیں اور بظاہرنئی ہونے کے باوجود ان کے گزشتہ تقدیروں سے رابطے ہوتے ہیں۔پس آج جو روس کے لئے راستے کھولے جارے ہیں یہ اسی خدا کی تقدیر کے سلسلے کا ایک حصہ ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ساری جماعتیں جو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس طرح غیر معمولی طور پر آسمان کے فرشتوں نے قائم کی ہیں وہ اس عرصے میں ضائع ہو چکی ہوں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ احمدی مخلصین اپنے آپ کو پیش کریں تا کہ از سر نو ان علاقوں سے رابطے کریں اور اب تو قرآن کریم کے ترجمے کا تحفہ ان کے پاس ہوگا اور اس سے بڑا اور اس سے عظیم تر تحفہ اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کی خدمت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔صرف یہی نہیں بلکہ بغیر اس علم کے کہ روس میں کیا تبدیلیاں ہونے والی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہم سے پہلے ہی تراجم کروارہی تھی اور جب کوئی پوچھتا تھا کہ کس طرح ان کو وہاں پہنچاؤ گے اور ہم رابطے کرتے تھے تو روس کے علاقے میں ان کتب اور رسائل کو پہنچانے کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دیتی تھی لیکن اب اللہ تعالیٰ نے یہ رستے کھول دئے ہیں اور اور بھی بہت سی عظیم الشان تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔جو خالصہ اللہ کے فضل کے نتیجے میں ہیں اور کسی انسان کی چالا کی یا منصوبے یا ہوشیاری یا محنت کے نتیجے میں نہیں ہیں۔رشین زبان میں اب تک جو تر جمے چھپ چکے ہیں وہ ہیں راشین ترجمہ قرآن مجید منتخب آیات قرآن مجید، منتخب اقتباسات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چار مختلف موضوعات پر فولڈرز جو حضرت مصلح موعودؓ کے بعض مضامین سے اس لئے اخذ کئے گئے تھے کہ آج کل کے زمانے میں روس کے مزاج کے مطابق وہ اقتباسات میرے نزدیک مفید تھے اور ان کے روسی ترجمے کروا کے چھوٹے چھوٹے فولڈرز کی صورت میں وہ چار فولڈ رز تیار کروائے گئے تھے جو بغیر تقسیم کے پڑے تھے، اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی تقسیم کا وقت آگیا ہے۔منتخب احادیث طباعت کے مرحلے پر ہیں کیونکہ ان کے ترجمے میں کچھ کمزوری رہ گئی تھی۔جس کی بار بار کی چھان پھٹک کے نتیجے میں کچھ تاخیر