خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 340
خطبات طاہر جلد ۹ 340 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۹۰ء نہ کرنے کی ہدایت تھی نہ کہ مرکز سے رابطہ توڑنے کی ہدایت تھی تو بہر حال پرانے کاغذات سے یہ بہت سی باتیں زیادہ واضح ہوتی چلی جاتی ہیں۔اس طرح تاریخ پر مزید روشنی پڑتی ہے۔ایک جگہ اکٹھا کر کے آپس میں ملایا گیا اور ایک احمد یہ انجمن بنائی گئی اور باجماعت نماز ادا کی گئی اور چندوں کا افتتاح کیا گیا۔وہاں کی جماعت کے دو مخلص بھائی ہمارے عزیز بھائی کے ساتھ آنے کے لئے تیار تھے لیکن پاسپورٹ نہ مل سکنے کے سبب سردست رہ گئے۔اس وقت محمد امین خاں صاحب واپس ہندوستان کو آرہے ہیں اور ایران سے ان کا خط پہنچا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو خیریت سے واپس لائے اور آئندہ سلسلہ کی بیش از بیش خدمات کرنے کا موقع دے۔میں ان واقعات کو پیش کر کے اپنی جماعت کو مخلصوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ تکالیف جن کو ہمارے اس بھائی نے برداشت کیا ہے ان کے مقابلہ میں وہ تکالیف کیا ہیں جو ملکانہ میں پیش آرہی ہیں پھر کہتے ہیں جنہوں نے ان ادنیٰ تکالیف کے برداشت کرنے کی جرات کی ہے“ پھر کہتے ہیں“ سے مراد یہ ہے کہ بعض لوگ ملکانہ میں قربانی کرنے والوں کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ تکالیف برداشت کرنے کی جرات کی ہے تو حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ تکالیف یہ ہوا کرتی ہیں۔ان کے مقابل پر تم ان چھوٹی چھوٹی تکلیفوں کو کہہ رہے ہو کہ بڑی جرأت کی ہے۔”اے بھائیو! یہ وقت قربانی کا ہے۔کوئی قوم بغیر قربانی کے ترقی نہیں کر سکتی۔آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم اپنی نئی برادری کو جو بخارا میں قائم ہوئی ہے یونہی نہیں چھوڑ سکتے۔پس آپ میں سے کوئی رشید روح ہے جوان ریوڑ سے دور بھیڑوں کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہو۔اور اس وقت تک ان کو چوبانی کرے کہ اس ملک میں ان کے لئے آزادی کا راستہ اللہ تعالیٰ کھول دے۔“ الفضل قادیان دارالامان ) مورخه ۱۴ اگست ۱۹۲۳ء نمبر ۱۲ جلد۱۱)