خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 339

خطبات طاہر جلد ۹ 339 خطبه جمعه ۱۵/جون ۱۹۹۰ء چونکہ ابھی اس کی پیاس نہ بھی تھی اس لئے پھر کا کان کے ریلوے سٹیشن سے روسی مسلم پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا یہ اس طرح بار بار پولیس کی حراست سے بھاگ نکلنا عجیب بات لگتی ہے۔خاص طور پر اس زمانے میں بولشویک انقلاب کے بعد روس میں تو ان معاملات پر بہت سختی کی جاتی تھی۔اس لئے یہ جو الفاظ انہوں نے لکھے ہیں روسی مسلمان پولیس اور حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ بعض اشارے موجود ہیں۔اس سے میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان پولیس کے ہاتھوں سے بھاگنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ان کو تبلیغ کی گئی ہے اور یا وہ احمدی ہو گئے ہیں یا دل احمدیت کے لئے نرم ہو گئے ہیں ورنہ اسی طرح تکرار کے ساتھ روسی پولیس کی حراست سے بھاگ نکلنا کوئی آسان بات نہیں۔روسی مسلم پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور پا پیادہ بخارا پہنچا۔بخارا میں ایک ہفتہ کے بعد پھر ان کو گرفتار کیا گیا اور بدستور سابق پھر کا کان کی طرف لایا گیا اور وہاں سے سمرقند پہنچایا گیا۔وہاں سے آپ پھر چھوٹ کر بھاگے اور پھر بخارا پہنچے اور ۱۳ مارچ ۲۳ء کو پہلی دفعہ بخارا میں اس جماعت سے مخلصین کو جو پہلے الگ الگ تھے‘ یعنی پہلے خدا کے فضل سے جماعت قائم تھی لیکن تنظیم قائم نہیں تھی تو انہوں نے بخارا میں جا کر وہ تنظیم قائم کی۔اور حسب میری ہدایت کے ان کو پہلے آپس میں نہیں ملایا گیا تھا۔ایک جگہ اکٹھا کر کے آپس میں ملایا گیا اور ایک احمدی انجمن بنائی گئی یہ جو فقرہ ہے یہ بہت دلچسپ ہے اور حسب میری ہدایت کے ان کو پہلے آپس میں نہیں ملایا گیا تھا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مصلح موعود کو پہلے ان کی کوئی اطلاع آئی ہوگی اور آپ نے ان کو احتیاط یہ حکم دیا ہوگا کہ آپس میں منظم ہو کر نہ رہو اور وہ جو روسی محقق نے بات لکھی ہے وہ پھر بالکل بے بنیاد بھی نہیں۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ روسی محقق نے گہری تحقیق کی ہے اور اس کو یہ پتہ چلا ہے کہ جو تنظیم قائم نہیں ہے، رابطہ قائم نہیں ہے وہ مرکز کی ہدایت پر ہے لیکن وہ غلط سمجھا۔آپس میں رابطہ قائم