خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 336

خطبات طاہر جلد ۹ 336 خطبہ جمعہ ۱۵/جون ۱۹۹۰ء پیدا ہوتی رہی اور آخر ۲ء میں میں نے ارادہ کر لیا۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ ۱۳ ۱۴ کی بات ہوگی جو پہلا واقعہ ہے کیونکہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیر ہوگئی ہے۔اس لئے واقعات شاید ذہنی ترتیب کے لحاظ سے آگے پیچھے ہو گئے ہوں۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ پچھلے سال خط آیا ہو اور آج یہ واقعات ترتیب کے لحاظ سے بدل جائیں کیونکہ حضرت مصلح موعود کی یادداشت تو بہت پختہ تھی ، غیر معمولی تھی۔اس لئے میرا اندازہ ہے کہ چند سال پہلے کا لکھا ہوا کوئی خط ہوگا۔واقعات تو یا درہ گئے لیکن ترتیب یاد نہیں رہی تو ۱۹۲۱ء سے چند سال پہلے کے متعلق ہم اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے فضل سے روس میں ایک نہیں بلکہ متعدد جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔” اور آخر میں میں نے ارادہ کر لیا کہ جس طرح بھی ہو اس علاقہ کی خبر لینی چاہئے چونکہ انگریزی اور روسی حکومتوں میں اس وقت صلح نہیں تھی اور ایک دوسرے پر سخت بدگمانی تھی اور پاسپورٹ کا طریق ایشیائی علاقہ کے لئے تو غالبا بند ہی تھا یہ دقت درمیان میں سخت تھی اور اس کا کوئی علاج نظر نہ آتا تھا مگر میں نے فیصلہ کیا کہ جس طرح بھی ہو اس کام کو کرنا چاہئے اور ان احباب میں سے جو زندگی وقف کر چکے ہیں۔ایک دوست میاں محمد امین صاحب افغان کو میں نے اس کام کے لئے چنا“ انگلستان کی جماعت کی یہ خوش نصیبی ہے کہ انہی محمد امین افغان صاحب کے صاحبزادے بشیر احمد خان غالباً برمنگھم میں رہتے ہیں۔یہ اسی عظیم تاریخی انسان کے بیٹے ہیں جواب جماعت احمدیہ انگلستان کے ایک فرد ہیں چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں : ایک دوست میاں محمد امین صاحب افغان کو میں نے اس کام کے لئے چنا اور ان کو بلا کر سب مشکلات بتادیں اور کہ دیا کہ آپ نے زندگی وقف کی ہے۔اگر آپ اس عہد پر قائم ہیں تو اس کام کے لئے تیار ہو جا ئیں جان اور آرام ہر وقت خطرہ میں ہوں گے اور ہم کسی قسم کا کوئی خرچ آپ کو نہیں دیں گے۔آپ کو اپنا خرچ خود کمانا ہوگا۔