خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 29

خطبات طاہر جلد ۹ 29 29 خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء لگتا ہوں پھر وہ لگتے ہیں اور اس طرح ہم دوسری طرف پہنچ جاتے ہیں اور پھر یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح یہاں سے باہر نکل کر دوسری طرف کنارے سے باہر کی عام دنیا میں ابھریں۔ید رویا یہاں ختم ہو گئی اور چونکہ یہ ایک ایسی رویا تھی جو عام طور پر دستور کے مطابق انسان کے ذہن میں آتی نہیں اس لئے رویا ختم ہونے کے بعد میرے ذہن پر یہ بڑا بھاری اثر تھا کہ یہ ایک واضح پیغام ہے جس میں اللہ تعالیٰ کسی نئی منزل فتح کرنے کی خوشخبری دے رہا ہے اور اگر چہ ایک حصہ اس کا ابھی تک مجھ پر واضح نہیں ہوا کہ وہ ساتھی جو ہیں ان کو ہم کیوں پیچھے چھوڑ گئے ہیں اور ہم دو کیوں آگے نکل جاتے ہیں لیکن بہر حال ذہن پر یہ تاثر ضرور ہے کہ اس میں کوئی اندار نہیں تھا بلکہ خوشخبری تھی کہ دریا کی موجوں نے اگر چہ بس کو روک دیا ہے لیکن ہمارے سفر کی راہ میں وہ حائل نہیں ہوسکیں۔تو اللہ تعالیٰ اس رؤیا کو بھی جہاں تک میرا تاثر ہے اور یقین ہے کہ مبشر ہے توقع ہے بڑھ کر مبشر بنائے اور جماعت کے حق میں اس کی اچھی تعبیر ظاہر فرمائے۔ایک اور رؤیا جو پچھلے دنوں دیکھی جس کے نتیجے میں میں نے ایک غزل کہی۔غزل تو جماعت تک پہنچ چکی ہے لیکن اس کا پس منظر نہیں پہنچا اس لئے میں وہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں۔پچھلے دنوں ہم نے سوچا کہ دسمبر میں چونکہ ربوہ میں جلسہ نہیں ہو سکتا اس لئے کثرت کے ساتھ جماعتوں میں جلسے کئے جائیں اور اللہ کے فضل کے ساتھ جور پورٹیں مل رہیں ہیں پاکستان میں بہت ہی بھر پور جلسے ہوئے ہیں اور دوستوں کے بڑے اطمینان کے بہت ہی خط Recieve ہورہے ہیں کہ بڑی مدت کے بعد دل کی یہ خلش دور ہوئی اور جو اس جلسے میں لطف آیا ہے اگر چہ یہ سالانہ جلسہ نہیں تھا اور وہ ربوہ والی کیفیت نہیں تھی مگر چھوٹے پیمانے پر ہونے کے باوجود بہت ہی زیادہ ایمان افروز اور تسکین بخش تھا چونکہ میں عموماً جلسے کے موقع پر کوئی نظم پیش کیا کرتا ہوں میں نے ایک غزل بھجوائی تھی۔جس کا عنوان تھا ” غزل آپ کے لئے وہ عام دستور سے کچھ ہٹی ہوئی ہے اور شاید سنے والوں نے تعجب بھی کیا ہو کہ مجھے یہ کیا سو بھی اس طرز پر غزل کہنے کی اور کیا مقصد ہے تو چونکہ ایک خواب کے نتیجے میں یہ کہی گئی تھی اس لئے میں وہ خواب آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔میں نے رویا میں دیکھا کہ کوئی عزیز ہے وہ میرے لئے ایک مصرعہ پڑھتا ہے اور وہ مصرعہ خواب میں بالکل موزوں ہے یعنی با قاعدہ باوزن مصرعہ ہے لیکن اٹھنے کے بعد پورا یاد نہیں رہا۔لیکن