خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 334
خطبات طاہر جلد ۹ 334 خطبه جمعه ۱۵/جون ۱۹۹۰ء ہیں۔یہ لوگ تعصب سے ہمیں صابی کہتے ہیں جس طرح رسول کریم ﷺ کے دشمن ان کے ماننے والوں کو صابی کہتے تھے۔انہوں نے وجہ مخالفت پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ اس امر پر ایمان رکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور ان کی مماثلت پر ایک شخص اسی امت کا مسیح موعود قرار دیا گیا ہے اور وہ ہندوستان میں پیدا ہو گیا ہیاس لئے یہ لوگ ہمیں اسلام سے خارج سمجھتے ہیں شروع میں ہمیں سخت تکالیف دی گئیں روسی حکومت کو ہمارے خلاف رپورٹیں دی گئیں کہ یہ باغی ہیں اور ہمارے بہت سے آدمی قید کئے گئے۔لیکن تحقیق پر روسی گورنمنٹ کو معلوم ہوا کہ ہم باغی نہیں ہیں بلکہ حکومت کے وفادار ہیں تو ہمیں چھوڑ دیا گیا۔اب ہم تبلیغ کرتے ہیں اور کثرت سے مسیحیوں اور یہودیوں میں سے ہمارے ذریعہ سے اسلام لائے ہیں یہ ساری باتیں بالکل ہمارے علم میں نہیں تھیں۔اللہ تعالیٰ اس دوست کو جزا دے جنہوں نے پرانے اخبار کھنگال کر اتنا قیمتی مضمون دوبارہ ہمارے سامنے رکھا اور اس طرح ساری جماعت کو اس بے حد ایمان افروز واقعہ کا علم ہوا کہ روس میں جو تبلیغ ہوئی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی مسلمان بنایا گیا ہے محض مسلمانوں کو احمدی نہیں بنایا گیا۔لیکن مسلمانوں میں سے کم نے مانا ہے یہ الٹ بات ہے۔معلوم ہوتا ہے اس زمانے میں وہاں مسلمانوں میں بہت زیادہ تعصب تھا تو ان میں سے کم نے مانا ہے لیکن اب تو خدا کے فضل سے سارے مسلمان تیار بیٹھے ہیں۔احمدیوں کو اب تیاری کرنی ہے۔مسلمان زیادہ مخالفت کرتے ہیں۔جب اس شخص کو معلوم ہوا کہ فتح محمد صاحب بھی اسی جماعت میں سے ہیں تو بہت خوش ہوا۔سلسلہ کی ابتداء کا ذکر اس نے اس طرح سنایا کہ کوئی ایرانی ہندوستان گیا تھا وہاں اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ملیں۔وہ ان کو پڑھ کر ایمان لے آیا اور واپس آکر یزد کے علاقے میں جو اس کا وطن تھا“ اب یہ یزد کا علاقہ بھی ہماری خاص توجہ کا مرکز بننا چاہئے۔