خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 328 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 328

خطبات طاہر جلد ۹ 328 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۹۰ء تنہا تصور نہیں ہے اور بھی اسلام کے تصورات ہیں اور ہمارے مخالفین ہمیں اس ا مخالفین ہمیں اس اس وجہ سے یہ یہ سمجھتے ہیں اور جو اختلافی عقائد ہیں ان میں سے چند یہ ہیں ۔ جب بھی یہ بات ان سے کی گئی بے ساختہ انہوں نے کہا کہ اس میں تو کسی دلیل کی کوئی ضرورت ہی نہیں ۔ ہم بغیر تر ڈد کے آپ کی بات سنتے سنتے یہی سمجھ رہے تھے کہ یہی معقول اسلام ہے اس کے سوا اسلام کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو اتنے عظیم الشان تغییرات خدا تعالیٰ نے احمدیت کے ذریعے اسلام کے نفوذ کے پیدا فرمائے ہیں کہ اگر ہم اس پر عملاً خدا تعالیٰ کا شکر ادا نہ کریں تو بڑی سخت بد نصیبی ہوگی ۔ جرمنی میں کچھ نوجوان اور کچھ انصار خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور بعض لجنہ اماء اللہ کی ممبرات بھی اس بارہ میں دلچسپی لے رہے ہیں اور ان سب کی کوششوں کے نتائج جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت ہی امید افزا ہیں۔ اس ضمن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کا ایک مضمون جو کسی ایک بہت پرانے الفضل میں شائع ہوا تھا مجھے ہندوستان سے ایک دوست نے بھیجا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ آپ کو پڑھ کر سناؤں اور اس کے بعد پھر اس کی روشنی میں چند باتیں آپ سے کروں گا لیکن اس سے پہلے میں ایک صحیح کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ کو یاد ہو گا گزشتہ کچھ عرصہ پہلے میں نے خطبے میں حضرت مصلح موعودؓ کے ایک رؤیا کا ذکر کیا تھا کہ وہ کسی خوف کی وجہ سے جگہ چھوڑ کر کسی اور ملک میں جانے پر مجبور ہوئے ہیں اور وہاں انہوں نے مجھے گود میں اٹھایا ہوا ہے یا اُم طاہر کے ایک بیٹے کو اور اس میں میں نے حضرت مصلح موعود کی طرف منسوب کر کے نام طاہر لے لیا تھا چونکہ وہ رویا بہت پہلے سے پڑھی ہوئی تھی اس لئے خطبے کے معاً بعد میں نے ربوہ لکھا کہ یادداشت سے بعض دفعہ غلطی ہو جاتی ہے اس لئے آپ اصل رویا جس اخبار میں چھپی تھی اس کی عکسی تصویر مجھے بھجوائیں تا کہ اگر غلطی سے کوئی بات واقعہ کے خلاف مذکور ہو گئی ہو تو اس کی درستی کر لی جائے ۔ وہ رویا میں نے دوبارہ پڑھی تو اس میں باقی مضمون تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بالکل رویا کے مطابق ہی تھا۔ یعنی یادداشت نے کوئی غلطی نہیں کی۔ لیکن لڑکے کا ذکر تو ہے اس میں میرا نام نہیں ہے بلکہ جس رنگ میں وہ ذکر ہے وہ اپنی ذات میں ایک خاص معنی رکھتا ہے اور اس میں بھی ایک پیشگوئی مضمر تھی ۔ آپ نے یہ لکھا ہے کہ جب میں نے خطرہ محسوس کیا تو میں بالا خانے پر اس غرض سے گیا کہ اپنی اہلیہ ام طاہر کو بھی جگادوں اور ان کو بھی ساتھ لے چلوں۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ان کے ساتھ ان کا ایک بچہ لیٹا ہوا ہے۔ اب وہ بچہ جو