خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 323
خطبات طاہر جلد ۹ 323 خطبه جمعه ۸ جون ۱۹۹۰ء جائے۔رات ہی یہاں کے Nunspeet کے ایک ریڈیوٹیشن پر مجھے مدعو کیا گیا تھاوہ دوست جو اس شعبے کے انچارج ہیں بہت ہی خلیق اور مہربان انسان ہیں اور جماعت کو موقع دیتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے مافی الضمیر کو ان کے ریڈیو کے ذریعے بیان کریں تا کہ علاقے کے لوگ معلوم کریں کہ ہم کون لوگ ہیں۔وہاں اس قسم کے سوال بھی اٹھے چنانچہ جہاں تک مقدور تھا میں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اسلام کا Terrorisim سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن یہ کافی نہیں اگر ہم سچے مسلمان بنتے ہیں یعنی خدا کے سپرد ہونے کے بعد اس سے امن حاصل کرتے ہیں تو پھر خود سچے امن کے پیمبر بن جاتے ہیں تو گرد و پیش ہمارے اعمال سے اسلام کی ایک تصویر کو دیکھے گا جو تصویر دل موہ لینے والی تصویر ہے اور یہ تصویر اس وقت حسین اور دلکش ہوگی جب دل میں تقوی موجود ہوگا۔ظاہری طور پر آپ کے نمازیں پڑھنے سے، ظاہری طور پر بعض بداعمالیوں سے بچنے سے اسلام تو دکھائی دے گا لیکن اس اسلام میں نور نظر نہیں آئے گا جب تک اس اسلام کا گہرے تقویٰ سے تعلق نہ ہو۔تقویٰ در حقیقت خدا کی محبت کا نام ہے اور اس خوف کا نام ہے کہ کہیں محبوب ناراض نہ ہو جائے۔کہیں کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جائے کہ وہ نظر پھیر لے۔پس صرف محبت ہی کا نام نہیں بلکہ اس دائم رہنے والے شعور کا نام ہے کہ میں نے اپنے محبوب کو راضی کرنا ہی نہیں راضی رکھنا ہے اور راضی رکھتے چلے جانا ہے۔ایسی صورت میں وہ اسلام جو بظاہر ایک ہی دکھائی دیتا ہے عام اسلام سے مختلف ہو جاتا ہے۔پھر دیکھنے والے کو ایسے شخص کے اسلام میں ایک عجب سا نور دکھائی دینے لگتا ہے۔وہ نور چہروں سے چھلکتا ہے، پیشانیوں سے پھوٹتا ہے اور اس میں ایک ایسی کشش پیدا ہو جاتی ہے کہ کوئی چاہے نہ چاہے ایسے وجود کی طرف انسان مائل ہونے لگتا ہے۔پس اسلام ان اعمال کا نام ہے جو تقویٰ کو چاہتے ہیں لیکن بعض دفعہ بغیر تقویٰ کے بھی کئے جاتے ہیں لیکن جب اسلام کے پیچھے تقومی زور مار رہا ہو تو اسلام زندہ ہو جاتا ہے اور اس میں ایک ایسا نور ، ایسی عظیم الشان کشش پیدا ہو جاتی ہے کہ بنی نوع انسان اس سے دور بھاگنا چاہیں بھی تو بھاگ نہیں سکتے۔وہی مضمون ہے کہ: میں بلاتا تو ہوں ان کو مگر اے جذبہ دل اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے (دیوان غالب: ۲۹۶) غالب تو یہ کہتا ہے کہ اس پر بن جائے کچھ ایسی کہ بنائے نہ بنے۔اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ تم