خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 318

خطبات طاہر جلد ۹ 318 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۹۰ء چنانچہ ایک دفعہ ایک مغل بادشاہ کے دربار میں ایسا ہی مناظرہ ہورہا تھا ۔ وہ صوفی جو کہتے تھے سب واہمہ ہے اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ہم کسی شکل میں بھی عَلِمُ الشَّهَادَةِ بن ہی نہیں سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ سب وہم ہی وہم ہے، آپ لوگوں کا خیال ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ دیکھو یہ جو مناظرہ تمہارے درمیان اور فریق ثانی کے درمیان ہو رہا ہے، یہ حقیقت ہے کہ نہیں ، انہوں نے کہا کہ نہیں یہ صرف وہم ہے۔ بادشاہ بڑا تنگ آگیا فیصلہ کوئی نہیں ہو سکتا تھا تو اس نے کہا کہ اس صوفی کے پیچھے مست ہاتھی چھوڑو۔ پھر دیکھیں کیا کرتا ہے چنانچہ مست ہاتھی بلوایا گیا جب صوفی صاحب کے پیچھے چھوڑا گیا تو صوفی اٹھ بھاگا ۔ بادشاہ نے اس کو آواز دی کہ وہم ہے یہ ہاتھی نہیں ہے تم کیوں بھاگ رہے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ بادشاہ سلامت! آپ کو وہم ہے کہ میں بھاگ رہا ہوں میں بھاگ نہیں رہا ۔ تو جب تو ہمات کی بیماری ہو جائے تو پھر ہر مضمون واہمہ بن جاتا ہے اور حقیقت کو پانے کے باوجو د انسان حقیقت کو کھو دیتا ہے۔ یہ مضمون جو علمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کا مضمون ہے، یہ انکسار پیدا کرنے والا مضمون ہے۔ تو ہمات پیدا کرنے والا نہیں انسان کو تکبر سے باز رکھنے والا مضمون ہے۔ پس جب ہم کہتے ہیں کہ ہم نے کسی کا اسلام دیکھا تو اس دعوے میں اس حد تک شدت نہیں اختیار کرنی چاہئے کہ چونکہ ہم اس کو مسلمان کے طور پر دیکھتے ہیں ، اس لئے لازماً خدا کے نزدیک وہ مقبول مسلمان ہے ۔ ہمیشہ انکسار کی گنجاش رکھنی چاہئے اس لئے نہ کسی کے اسلام کے انکار کی ہمیں طاقت ہے، نہ کسی کے اسلام کی ایسی تصدیق کی ہمیں طاقت ہے کہ جس کے اوپر ہم اعتماد کر سکیں اور کامل یقین کر سکیں اور اصرار کر سکیں۔ یہ وہ سبق ہے جو ہمیں قرآن کریم عطا فرماتا ہے اور ان دو انتہاؤں کے درمیان مومن جب زندگی گزارتا ہے تو نہایت عاجزی اور انکسار کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ پس تقویٰ اس ان دیکھی حقیقت کا نام ہے جو آپ چاہیں بھی تو دیکھ نہیں سکتے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ بعض دفعہ یہ دکھائی بھی دینے لگتا ہے اور وہ دکھائی دیتا ہے عمل کے پردے میں اور اسلام کے پردے میں جس طرح جگنوں چمکتا ہے تو اس کے اندر کا نور جھیلوں سے باہر دکھائی دینے لگتا ہے۔ اسی طرح جب مومن تقویٰ سے بھر جاتا ہے تو اس کے اسلام میں بھی ایک چمک پیدا ہو جاتی ہے اس لئے اگر چہ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ہر مسلمان متقی ہے لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر متقی ضرور مسلمان ہوتا ہے اور تقویٰ کے بڑھنے کے بعد