خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 319

خطبات طاہر جلد ۹ 319 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۹۰ء بعض دفعہ ایک ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے جب تقویٰ اعجاز دکھانے لگتا ہے اور تقویٰ کے اعجاز اسلام کے پردے سے ظاہر ہوتے ہیں۔اس کے اسلام میں ایک نیا حسن پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس حسن کے نتیجے میں مسلم کے اندر ایک عجیب دل کشی پیدا ہو جاتی ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور اس مضمون کا تعلق اسلام کے دوسرے معنی سے ہے۔جس کا مطلب ہے امن Peace پس جب انسان اپنے آپ کو خدا کے سپر د کر دے اور تقویٰ کی حالت میں اس نے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کیا ہو تو پہلی بات اسے امن نصیب ہوتا ہے، اس کے دل کو سکینت مل جاتی ہے یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے اعلان فرمایا۔آلَآ اِنَّ اَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (یونس : ٦٣) که وہ لوگ جو واقعتہ تقویٰ کے ساتھ اپنے آپ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں وہ ایک ایسے عالم جاوداں میں داخل ہو جاتے ہیں، عالم بقاء میں پہنچ جاتے ہیں کہ پھر دنیا کی عارضی چیزیں نہ انہیں کوئی گہرا صدمہ پہنچا سکتی ہیں نہ گہری گھبراہٹ میں مبتلا کر سکتی ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم خدا کے ہو گئے ، ہم خدا کے سپرد ہو گئے تو پھر ان بدلتی ہوئی کیفیات کے لئے بہت زیادہ گہرے غم اور فکر کی ضرورت نہیں۔در حقیقت یہ وہی مضمون ہے جو انا للہ وانا اليه راجعون کا ہے۔عام طور پر لوگ اپنی چیزوں کے نقصان کے وقت یہ پڑھتے ہیں اور وہ بھی اچھا موقع ہے لیکن درحقیقت اپنے آپ کو خدا کے لئے کھو دینے کا مضمون ہے جو انا لله وانا اليه راجعون میں بیان ہوا ہے۔لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ہم خدا ہی کے تو ہیں۔خدا ہی کی طرف سے آئے تھے اور اسی کی طرف ہمیں لوٹنا ہے اس لئے جہاں سے ہم آئے۔جہاں آخر پہنچنا ہے۔اس درمیانی عرصے میں اس سے اپنے وجود کو جدا کیوں رکھیں۔تو سپردگی کا پیغام ہے جو ہمیشہ انا لله وانا اليه راجعون مومن کو دیتا چلا جاتا ہے۔پس اس پہلو سے اسلام کے نتیجے میں امن نصیب ہوتا ہے اور وہ امن جو دل میں جاگزیں ہو جائے وہ انسان کے اعمال میں پھوٹتا ہے۔اس کے رجحانات میں ظاہر ہوتا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ وہ شخص جس کو اسلام کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے امن نصیب ہو وہ لوگوں کے امن لوٹنے کے لئے نکل کھڑا ہو۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے نام مسلم رکھا جس کا اصل ترجمہ ”امن پانے والا نہیں بلکہ ”امن دینے والا ہے پس اسلام کے پہلے مضمون کے نتیجے میں انسان کے دل کو امن نصیب ہوتا ہے اور جسے