خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 316
خطبات طاہر جلد ۹ 316 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۹۰ء روکنے کی اجازت نہیں ہے۔جہاں تک اس حقیقت کا تعلق ہے کہ وہ واقعہ آزمائش پڑنے پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوں گے کہ نہیں اس کا تعلق ان کی دلی محبت سے ہے۔پس دلی محبت کا نام تقویٰ ہے اور تقویٰ اسلام کو تقویت بخشتا ہے اور اسلام کی کیفیت بدلتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ تقویٰ کی ترقی کے ساتھ واقعتہ انسان خدا کا ہو جاتا ہے اور سب کچھ اس کے سپر د کر دیتا ہے۔انہی معنوں میں خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا اسليم حالانکہ وہ خدا کے نبی بن چکے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ ترقی کی یعنی اسلام کی انتہائی حالت کی طرف آپ کو دعوت دی گئی تھی۔قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقره:۱۳۲) کہ اے خدا ! میں تیرا ہو گیا۔میں رب العالمین کے حضور اپنے وجود کو پیش کر دیتا ہوں۔پس اسلام کی ایک ابتدائی حالت ہے اور ایک انتہائی حالت ہے۔ان کے درمیان بے شمار منازل ہیں اور نہ کسی انسان کو ابتدائی حالت سے متعلق اختیار دیا گیا کہ کسی سے کہے کہ تم مسلمان نہیں ہو نہ انتہائی حالت سے متعلق انکار کا اختیار دیا گیا۔باوجود اس کے کہ اسلام میں کچھ نظر آنے والی باتیں موجود ہیں۔مثلاً جب ایک شخص کہتا ہے کہ میں اسلام لے آیا تو آپ نہ اس کے ایمان کو دیکھ سکتے ہیں، نہ اس کے تقویٰ کو دیکھ سکتے ہیں لیکن اسلام لانے کے بعد اگر وہ نمازیں نہیں پڑھتا، اگر عبادات بجا نہیں لاتا اگر بنی نوع انسان کے حقوق ادا نہیں کرتا تو آپ کی نظر یہی فیصلہ کرے گی کہ اس نے سپردگی کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔اس لئے اسلام کے متعلق کسی حد تک انسان دیکھ سکتا ہے اور جانچ سکتا ہے لیکن تقوی تک انسان کی کوئی پہنچ نہیں اور سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی کسی شخص کے تقویٰ کو براہ راست جانچ نہیں سکتا۔لیکن ایک پہلو ایسا ہے جس سے تقویٰ دکھائی دینے لگتا ہے۔اسلام کے متعلق جیسا کہ قرآن کریم کی آیات سے ثابت ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام دکھائی دیتا بھی ہوتب بھی ضروری نہیں کہ کوئی شخص مومن ہو۔بظاہر اسلام نظر آتا بھی ہو تو چونکہ ہمیں تقویٰ کی حالت کا علم نہیں اس لئے ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ تم مسلمان نہیں ہو۔لیکن سو فیصدی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ شخص مسلمان ہے بھی کہ نہیں اس لئے دونوں جگہ ایک ابہام کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ وہ منافقین جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے۔جو آنحضرت ﷺ کے حضور حاضر ہوتے ، اسلام کے دعاوی کرتے ، نمازیں ساتھ پڑھتے اور بعض دفعہ جہاد میں بھی شریک ہو جایا