خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 312
خطبات طاہر جلد ۹ 312 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۹۰ء ایک اندرونی حالت کا نام ہے جس کی باہر سے کوئی نشاندہی نہیں کی جاسکتی ۔ اسی لئے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں ایمان لایا تو اس کے ایمان کو پرکھنے اور دیکھنے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں اس لئے ایمان کے ساتھ ہی انسان کو تصدیق کا حکم ہے یعنی اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں ایمان لایا تو اس کے متعلق یہ کہنا جائز نہیں کہ تم جھوٹ بولتے ہو تم ایمان نہیں لائے ۔ سوائے خدا کے کوئی نہیں ہے جو ایمان کے متعلق فیصلہ دے سکے۔ اسی لئے جب تک حضرت اقدس محمد مصطفی علی کو مخاطب کر کے قرآن کریم میں صلى الله عليه خدا تعالیٰ نے واضح طور پر یہ نہیں فرمایا کہ یہ منافقین ایسے ہیں کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں ، اس لئے تم ان کو کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے اور ساتھ ہی یہ ارشاد بھی فرمایا کہ اسلام کے متعلق ان کو اجازت دے دو کہ یہ بے شک یہ کہیں کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔ اب یہ مضمون ایک ایسا دلچسپ بھی ہے اور الجھا ہوا بھی ہے کہ جب تک کھول کر بیان نہ کیا صلى الله جائے اس وقت تک لوگوں کو ان دونوں کے رشتے اور فرق کی پوری طرح سمجھ نہیں آسکتی ۔ جب تک خدا تعالیٰ نے یہ اجازت نہیں دی یا حکم نہیں دیا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اپنی طرف سے کبھی کسی کو یہ نہیں فرمایا کہ تم مومن نہیں ہوا اور ان معین لوگوں کے متعلق جن کے متعلق قرآن کریم میں یہ خبریں ملتی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ مومن نہیں ہیں اگر چہ ان کو مسلمان کہلانے کی اجازت ہے۔ اس واضح ارشاد کے باوجود حضور اکرم ﷺ نے بھی آگے کسی صحابی کو یہ اجازت نہیں دی کہ وہ کسی صلى الله مومن کہلانے والے کو یہ کہیں کہ تم مومن نہیں ہو۔ چنانچہ ایک ایسا واقعہ تاریخ اسلام میں ملتا ہے کہ ایک شخص جو جہاد کے دوران بہت ہی زبردست مقابلہ کر رہا تھا یعنی مومنوں کا اور مسلمانوں کا اور ایک نامی پہلوان تھا۔ بالآخر اس کو جب ایک مسلمان نے پچھاڑ دیا اور اس کو قتل کرنے لگا تو اس نے کلمہ پڑھ کر اپنے ایمان کا دعوی کیا ۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں انسانی عقل یہی فیصلہ دیتی ہے کہ یہ شخص جان بچانے کی خاطر ایک دھوکے سے کام لے رہا ہے فی الحقیقت یہ ایمان نہیں لایا۔ چنانچہ مسلمان مجاہد نے اسی طرز عمل کا اظہار کیا اور یہ کہتے ہوئے اس کو قتل کر دیا کہ تم جان بچانے کی خاطر جھوٹ بول رہے ہو تمہارے دل میں کچھ نہیں ہے۔ وہ آیت جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے وہ یہ بتاتی ہے ۔ لَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ (الحجرات : ۱۵) یعنی خدا نے رسول اللہ ﷺ کو خود خبر دی تھی کہ ان لوگوں کے دلوں میں