خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 307

خطبات طاہر جلد ۹ 307 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۹۰ء جرمنی میں خصوصیت سے خطبے کے دوران میں نے اس مضمون کو اس لئے چنا ہے کہ جرمنی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت سی نیکیوں میں ترقی کر رہی ہے اور بہت سے خطرات کا بھی اس کو سامنا ہے۔جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے عظیم مثالیں قائم کر ہی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ ابھی بہت سی گنجائش باقی ہیں لیکن جہاں تک عبادتوں کا تعلق ہے، جہاں تک خدا کو دل میں بٹھا لینے کا تعلق ہے، ابھی بہت سے مراحل باقی ہیں۔جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے اگر چہ آپ لوگ کوشش کرتے ہیں ، یعنی ایک حصہ آپ میں سے ، مگر بہت بھاری اکثریت آپ کی ایسی ہے جو تبلیغ کے فن سے ہی واقف نہیں اور جب خطبات میں ذکر سنتی ہے تو دل میں ایک ولولہ سا اٹھتا ہے لیکن ایک عارضی چمک کی طرح ، جس طرح جگنواند ھیرے میں دکھائی دے، پھر وہ ولولہ خود بخود بجھ بھی جاتا ہے، باقی رہنے والی روشنی نہیں رہتی اور اس وجہ سے سالانہ تبلیغ کا ماحصل بہت تھوڑا ہے۔اگر آپ اعداد میں اپنی تبلیغی کوششوں کے نتائج دیکھیں تو بالکل معمولی ہیں۔اس لحاظ سے مجھے خیال آیا کہ دو باتوں کی طرف آپ کو خصوصیت سے متوجہ کروں۔اول یہ کہ کامیاب تبلیغ کا راز حقیقت میں خدا کو پالیتا ہے اور اگر آپ صاحب خدا بن جائیں آپ کی علمی کمزوری کبھی آپ کی راہ میں حائل نہیں ہوگی۔آپ کی مقبول دعائیں آپ کی نیک ادا ئیں آپ کا اٹھنا بیٹھنا آپ کا سلیقہ آپ کا وقار آپ کی بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی ، جو یہ سارے نتائج ہیں خدا والا بننے کے، یہ جب آپ کی ذات میں ظاہر ہوں گے تو لازماً آپ کی تبلیغ مؤثر ہوگی اور آپ میں پھیلنے کی طاقت ہوگی۔دوسری بات یہ ہے کہ اس طرح پھیلنے کے نتیجے میں جو اعداد آپ کو نصیب ہوں گے وہ محض گفتی کی باتیں نہیں ہوں گی بلکہ حقیقۂ صاحب خدا لوگ ، صاحب خدا لوگ ہی پیدا کیا کرتے ہیں۔اور ایسے لوگ جو تقویٰ کے ساتھ تبلیغ کرنے والے ہوں، جو نیکی کے ساتھ تبلیغ کرنے والے ہوں،ان کی تبلیغ کا پھل بھی باقی رہا کرتا ہے۔یہ راز میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں وہ لوگ جو لفاظیوں کے ذریعے اور محض منطق کے ذریعے لوگوں کے دماغ قائل کرتے ہیں، بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایسے اسلام میں داخل ہونے والے جو ان دروازوں سے داخل ہوتے ہیں اسی قسم کے وسوسوں کے