خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 305

خطبات طاہر جلد ۹ دنیا کے سامنے نکلے کہ 305 آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۹۰ء لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے ( در تمین صفحه: ۱۶) میں نے صحابہ کی زندگی پر غور کیا ہے، تو یہی خلاصہ مجھے ان کی زندگی کا ملا۔ان میں صاحب علم بھی تھے اس میں کوئی شک نہیں لیکن ضروری نہیں تھا کہ جو صاحب علم تھا وہی دوسری سوسائٹی پر غالب آیا ہو۔بعض بالکل دنیا کے لحاظ سے بے علم تھے جن کو خدا تعالیٰ نے غلبہ عطا فرمایا تھاوہ اپنے ماحول پر جہاں جاتے تھے غالب آجاتے تھے اور ان کے ذریعے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ احمدیت کا پیغام دور نزدیک ہر طرف پھیلا ہے اور کبھی کسی سوسائٹی میں وہ لوگ مغلوب نہیں ہوئے۔علم کی وجہ سے نہیں یا علم کے فقدان کی وجہ سے نہیں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کے ہونے یا نہ ہونے کے نتیجے میں ہورہا تھا۔صحابہ کے اندر خدا موجود تھا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تسلی کا یہ طور سیکھ لیا تھا اور ان کے دل طمانیت سے بھر گئے تھے۔وہ ایسی طمانیت سے بھر گئے تھے جو نور خدا کے سوا نصیب نہیں ہوسکتی اور یہی ان کی دولت تھی۔یہی ان کی روشنی تھی جس سے وہ اندھیروں میں اجالے کر رہے تھے اور دنیا والے نظریاتی لحاظ سے خواہ کتنی ہی مخالفت کرنے والے ہوں ، جب وہ آنکھوں کے سامنے خدا کی صفات کے نشان دیکھتے ہیں، جب وہ خدا کے چہرے کو جلوہ گر دیکھ رہے ہوتے ہیں تو رفتہ رفتہ ان کی ساری مخالفتیں ، اگر ان میں کوئی صداقت کا مادہ موجود ہے، مغلوب ہونے لگ جاتی ہیں۔یہی وہ نور ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے۔جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل (۸۲) حق آ گیا ہے اور باطل کے مقدر میں بھاگنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا باطل کے تو نصیب میں ہی بھا گنا ہے اس لئے باطل بھاگ گیا ہے۔پس یہ وہ غلبے کا آخری اور غالب آنیوالا مفہوم ہے جس کو سمجھ کر جس کو اپنا کر اپنی زندگی میں جاری کر کے آپ کو گرد و پیش غلبہ نصیب ہو سکتا ہے لیکن غلبہ دراصل آپ کو نہیں بلکہ خدا کے چہرے کو نصیب ہوگا۔اس پہلو سے ایک اور نکتہ بھی ہمارے ہاتھ آیا کہ وہ لوگ جو الہی جماعتیں ہیں جب وہ دنیا میں پھیلتی ہیں تو اپنی ذات کی خاطر نہیں ، اپنے جلال اور اپنے اکرام کے لئے نہیں، بلکہ چونکہ وہ خدا