خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 299

خطبات طاہر جلد ۹ 299 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۹۰ء باتیں دیکھ رہا ہو، اس کی زندگی کا ماحصل بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے۔وہ شخص جو صاحب علم وعرفان ہے، اس کی نظر کا ئنات پر پھیلی ہوتی ہے اس کے مطابق در حقیقت اس کی زندگی زیادہ وسیع اور بھر پور ہوتی ہے۔چنانچہ کچھ وقت میں لمبا ہو کر ، کچھ کا ئنات میں پھیل کر انسان اپنی زندگی کو وسعت دیتا چلا جاتا ہے اور پھر اپنے مرنے کے بعد اپنی اولاد کے ذریعہ ایک قسم کی بقا حاصل کرتا ہے۔اسی لئے وہ لوگ جو اولاد سے کلیتہ محروم ہوں ، وہ بہت بے چین اور بے قرار رہتے ہیں، کیونکہ در حقیقت نفسیاتی نکتہ یہ بنتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگ تو باقی رہیں گے، ہم اپنی موت کے ساتھ ختم ہو جائیں گے اور ہماری اولاد پیچھے کوئی ایسی نہیں آئے گی جو ہمارے وجود کو ایک نئی خلعت عطا کرے اور ہمارے وجود ان کی شکلوں میں زندہ رہیں اور پھر ان کے بعد ان کے بعد میں آنے والے بچوں کی شکلوں میں زندہ رہیں اسی لئے مائیں اولاد سے بعض دفعہ اپنی ذات سے بھی زیادہ محبت کرتی ہیں کیونکہ درحقیقت وہ اپنی زندگی کی بقا اپنی اولاد میں دیکھ رہی ہوتی ہیں اور مستقبل چونکہ ایک لا متناہی چیز ہے اور حال کی عمر چھوٹی ہوتی ہے اس لئے جو گہری محبت کرنے والی مائیں ہیں وہ غیر شعوری طور پر اس مسئلے کی حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے بھی اولاد سے اس لئے محبت کرتی ہیں کہ وہ ان کی زندگی کا مستقبل ہوتی ہیں۔وہ سمجھتی ہیں کہ اولاد کے ذریعے ہم ہمیشہ زندہ رہیں گی۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ نہ تم اپنی ذات میں مستقل زندہ رہ سکتے ہو، نہ اپنے علم کے ذریعے مستقل زندہ رہ سکتے ہو، نہ تم اپنی اولادوں کے ذریعے مستقل زندہ رہ سکتے ہو کیونکہ كُلَّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ اس زندگی ، اس کائنات میں فنا کا ہاتھ ہے جو سب ہاتھوں سے لمبا ہے، ہر عرصۂ حیات پر محیط ہے، ہر وجود پر اس کی دسترس ہے۔پس کسی قیمت پر بھی تمہیں بقا نصیب نہیں ہو سکتی۔ہاں بقا کی تمنا ہے اور سچی تمنا ہے تو ایک ہی ذریعہ ہے کہ جس سے تم ہمیشہ کی زندگی پاسکتے ہو اور وہ ہے وَجْهُ رَبَّكَ کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔اپنے رب کے وجہ کو پانے کی کوشش کرو۔جس کا مطلب ہے رضائے باری تعالیٰ اور جب تم رضائے باری تعالیٰ حاصل کر لو گے تو خدا کی رضا کوکوئی فتانہیں۔خدا کی رضا میں ہو کر تم ہمیشہ کی زندگی پالو گے اور لا متناہی زندگی پالو گے۔اس حقیقت کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں ہماری زندگیاں بہت سی برکتوں اور نعمتوں سے محروم کٹتی چلی جاتی ہیں۔ہم میں سے بھاری اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو بے چین ہیں۔وہ لوگ جنہیں چین