خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 298 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 298

خطبات طاہر جلد ۹ 298 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۹۰ء رضا کی چادر اوڑھ لیتے ہیں اور اپنی رضا کو اس رضا کے تابع مثانے لگ جاتے ہیں، وہ رفتہ رفتہ باخدا انسان بنتے ہوئے خدا کے چہرے بننے کے مستحق بن جاتے ہیں، خدا کے چہرے کہلانے کے مستحق بن جاتے ہیں اور اس پہلو سے ان کو بھی کوئی فنانہیں۔پس اس پہلو سے غور کرتے ہوئے جب ہم روز مرہ کی زندگی میں اس مضمون کا اطلاق کر کے دیکھتے ہیں تو باوجود اس کے کہ انسان فتا کو ہر طرف سے اپنے وجود کو گھیرے ہوئے دیکھتا ہے، باوجود اس کے کہ در حقیقت فنا کے سوا اور کوئی بھی حقیقت دکھائی نہیں دیتی ، باقی ساری باتیں افسانے بن کے رہ جاتے ہیں جو چیز باقی رہنے والی دکھائی دیتی ہے وہ فنا ہے۔کوئی ایسی حقیقت نہیں جوفنا کی دست برد سے پاک ہو، بالا ہو، اس سے مستثنیٰ ہو اس کے باوجود ہم فنا کو بھول جاتے ہیں اور جو چھوٹی سی زندگی چند لمحوں کی ہمیں نصیب ہوتی ہے اس کو بقا سمجھنے لگ جاتے ہیں ، حالانکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان تمہاری زندگیوں کی یا ان وجودوں کے عرصہ حیات کہہ لیں یا عرصہ قیام کی کوئی بھی حقیقت نہیں ، خواہ وہ اربوں سال بھی رہیں بالآخر لازماً انہوں نے مٹنا ہے اور اس کے باوجود کہ ہم فنا کو اس طرح نہیں دیکھتے جیسے دیکھنا چاہئے ، ہم حیات سے چمٹتے ہیں اور حیات ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اپنی حیات کو لمبا کرنے کا کوئی سامان نہیں کرتے۔یہ انسان کی غفلت کی وہ حالت ہے جس کے نتیجے میں تمام دنیا میں بد اعمالیاں پھیلتی ہیں اور انسانی زندگی صداقتوں سے محروم رہ جاتی ہے۔ہم حقیقت میں جس زندگی کو چھٹتے ہیں اسے لمبا بھی کرنا چاہتے ہیں اور خواہ اپنی ذات کے متعلق یقینی طور پر یہ نہ بھی سمجھیں کہ ہم نے آج نہیں تو کل گزر جانا ہے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو نہ بھی ڈھالیں تب بھی ، جیسی بھی ہماری زندگی ہے اسے لمبا کرتے چلے جاتے ہیں، لمبا ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کی مختلف شکلیں ہیں۔ایک تو فی ذاتہ انسان اپنے لئے ہر قسم کی کوشش کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا عرصہ بڑھتا چلا جائے اور زیادہ دی وہ اس دنیا میں سانس لے سکے۔دوسرے علم کے ذریعے دنیا میں پھیلتا ہے اور اپنی ذات کو کائنات پر علم کے ذریعے اور جستجو کے ذریعہ پھیلاتا ہے۔پس اس حیثیت سے جتنا صاحب شعور اور صاحب علم انسان ہو، وہ اتنا ہی زیادہ زندہ رہتا ہے۔ایک بے وقوف اور کم نظر انسان بھی بظاہر اس کے ساتھ عرصۂ حیات میں شریک دکھائی دیتا ہے لیکن وہ شخص جس کی نظر محدود ہو وہ تھوڑی