خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 297

خطبات طاہر جلد ۹ 297 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۹۰ء کیوں فرمایا کہ وَجْهُ رَبَّكَ تیرے رب کے چہرے کو فنا نہیں ہے حالانکہ اصل لا فانی حقیقت تو خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اسی سے ہر دوسری چیز کو بقا حاصل ہوتی ہے اور اگر ہر دوسری چیز کوفتنا ہے اور خدا کو نہیں تو پھر دوسرا سوال یہ بھی اٹھتا تھا کہ وہ تمام نیک روحیں جنہوں نے خدا سے تعلق جوڑ کر ایک قسم کی بقا حاصل کر لی کیا اس آیت کریمہ کا اطلاق ان پر بھی ہوگا اور وہ بھی فنا ہو جائیں گی؟ کیا جنت کو بھی فنا ہے اور اہل جنت کو بھی فنا ہے؟ یا صرف زمین پر بسنے والوں کا ذکر کیا جا رہا ہے؟ ان تمام امور کا جواب در حقیقت قرآن کریم کی اس آیت میں ہمیں دے دیا کہ خواہ ہم غور کریں یا نہ کریں لیکن جواب اس میں موجود ہے۔اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تیرے رب کے سوا ہر چیز کو فنا ہے بلکہ فرمایا۔وَجْهُ رَبَّكَ کے سوا ہر چیز کو تا ہے اور وَجْهُ رَبَّكَ کے ساتھ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ کی صفات بیان فرمائیں۔وجہ کا ایک تو معنی ہے چہرہ۔سوال دوسرا یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ چہرے کو فنا نہیں ہے، گویا خدا کا کوئی چہرہ ہے اور کیا نعوذ باللہ باقی ذات کو فنا ہے؟ اگر یہ معنے نہیں اور یقیناً نہیں اور بالکل غلط اور لغو معنے ہیں، تو پھر وَجْهُ کا لفظ کیوں استعمال فرمایا گیا ؟ وجه کا معنی صرف چہرہ نہیں بلکہ رضائے باری تعالیٰ ہے اور رضا جن لوگوں کو نصیب ہو جاتی ہے وہ صاحب رضا بن جاتے ہیں اور در حقیقت ان معنوں میں خدا کے وہی چہرے ہیں۔پس جب یہ فرمایا گیا کہ وجْهُ رَبَّكَ کے سوا باقی ہر چیز فنا ہے تو مراد یہ ہے کہ ہر چیز فانی ہے، مگر وہ جو خدا سے تعلق جوڑ کر اس کی رضا کی مظہر بن جاتی ہے اور جو بھی خدا سے تعلق جوڑ کر اس کی رضا کا مظہر بن جاتا ہے وہی خدا کا چہرہ ہے۔کیونکہ خدا فی ذاتہ تو دکھائی نہیں دیتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو بارہا حضرت رسول اکرم ﷺ کے عشقیہ کلام میں یہ فرمایا کہ تجھ سے ہم نے خدا کو دیکھا ہے، تیرے دیکھنے سے خدا دیکھا، تو دراصل اسی آیت کی تفسیر ہے۔خدا کے چہرے صاحب خدالوگ ہوا کرتے ہیں اور جیسا کہ اس آیت میں یہ خوشخبری عطا فرمائی گئی ہے کہ ہر چیز مٹ جائے گی مگر وہ لوگ جو خدا کی رضا کے مظہر بن جاتے ہیں، جن کے چہروں میں خدا دکھائی دینے لگتا ہے یعنی بصورت دیگر جو خدا کا چہرہ بن جاتے ہیں جن کو دیکھ کر خدا دکھائی دیتا ہے ، ان پر کبھی کوئی فنانہیں ہے، پس اس پہلو سے حقیقت محمدیت مﷺ ایک لافانی حقیقت بنتی ہے۔جس کے اوپر کسی فنا کا کوئی تصور باندھا نہیں جا سکتا اور اسی نسبت سے نیک اعمال اختیار کرنے والے خدا کے وہ عاجز بندے جو خدا کی