خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 289 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 289

خطبات طاہر جلد ۹ 289 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۹۰ء میں جس شخص میں ، جس فرد واحد میں بھی نیکی کا کوئی پیج زندہ موجود ہے وہ بیج پنپ اٹھے اور تیرے فضل کے ساتھ اور تیرے کرم کے ساتھ جو حصے بچائے جاسکتے ہیں وہ بچائے جائیں۔یہ وہ رجحان ہے جو اس آیت کے مزاج کے عین مطابق ہے۔بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے وہ چیزیں ضائع نہیں ہونے دیتے۔جیسے میں نے ایک دفعہ پہلے بھی خطبے میں ذکر کیا تھا، اگر پھل بھی گل جائے تو اس کو کاٹ کر تراشتے ہوئے اس تھوڑے سے حصے کو بھی بچانے کی کوشش کرتے ہیں جو صاف ستھرا موجود ہو۔بعض لوگ ہیں جو اس معاملے میں لا پرواہ ہوتے ہیں اور خدا کے رزق کی قدر نہیں کرتے۔پھل کا تھوڑ اسا بھی حصہ گلا ہو تو اس کو اٹھا کر ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔یہی حال ہم روز مرہ کی زندگی میں بچے ہوئے کھانے کے ساتھ ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔یہی سلوک بچی ہوئی روٹیوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔بعض لوگ روٹی کو ذرا سا داغ لگ جائے تو ساری روٹی اٹھا کر پھینک دیتے ہیں، ان کے لئے بھی اس آیت میں سبق ہیں۔ان کو خدا کا مزاج اپنانا چاہئے اور جو حصہ بھی بیچ سکتا ہو اس کو بچانا چاہئے۔پس قوم کے ساتھ بھی اسی طرح ایک پہلو سے کنجوسی کا سلوک کریں۔کنجوسی ان معنوں میں کہ جو حصہ بچ سکتا ہے اس کو ضائع نہیں ہونے دینا۔پس مومن کی دعا میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔پاکستان میں اس وقت جو حالات گزر رہے ہیں وہ دن بدن بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قوم نے مسلسل قومی لحاظ سے تکذیب کر کے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو بہت بھڑ کا یا ہے۔شاذ ہی دنیا کی تاریخ میں ایسی قومیں ہوں جنہوں نے قومی طور پر اس طرح یکجائی طور پر فیصلہ کرتے ہوئے وقت کے نبی کی تکذیب کی ہو۔ایسے واقعات شاذ کے طور پر نظر آتے ا ہیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی میں اللہ سے ایسا ہی سلوک کیا گیا تھا جبکہ علماء نے اس زمانے کے علماء ہی کہلاتے تھے جو بڑے لوگ تھے مختلف قبائل کے ، انہوں نے مل کر ا کٹھے ہو کر ایک آخری فیصلہ کیا آپ کی ہجرت سے چند دن پہلے کہ ہم سب نہ صرف اس شخص کی تکذیب پر متفق ہیں بلکہ اس بات پر متفق ہوتے ہیں کہ ہم مل کر اس شخص کو بالآخر ہلاک کر دیں اور اس کے سلسلے کو نابود کر دیں۔یہ دارالندوہ کا قومی فیصلہ تھا اور عجیب بات ہے کہ یہ فیصلہ ۷ ستمبر کو ہوا ہے۔کچھ عرصہ پہلے میں نے آنحضرت ﷺ کے زمانے کی تاریخ کو تقویم کے ذریعے شمسی سالوں کے مطابق تبدیل کروایا اور وہ