خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 276
خطبات طاہر جلد ۹ 276 خطبه جمعه ۱۸ارمئی ۱۹۹۰ء ہو جاتی ہے۔پس پاکستان کی بیماریوں کی نشاندہی کرنے کے لئے اس سے زیادہ صحیح نشاند ہی ممکن نہیں کہ اس قوم کے دل سے تقویٰ اٹھ چکا ہے جس طرح پرندہ گھونسلے کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہ دیتا ہے۔اسی طرح یوں معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ نے اس قوم کے دلوں کو خیر باد کہہ دیا ہے اور اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ وہاں کا منحوس مولوی ہے۔ملاں نے اسلام کے نام پر وہ ظلموں کی ہولی کھیلی ہے، وہ فساد مچایا ہے، اس طرح قوم کے دل پھاڑے ہیں، اس طرح نفرتوں کی تعلیم دی ہے اور اس بات سے قطع نظر کہ اسلامی اعمال اور اسلامی اخلاق کا کیا ہو رہا ہے اپنی حکومت کے حصول کی خاطر اپنی بڑائی کی خاطر، نام نہاد اسلامی شریعت کے نفاذ کے لئے وہ ایک لمبے عرصے سے کوشش کرتے چلے آرہے ہیں اور خواب یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی شریعت کے نفاذ کے ساتھ ہی مولوی کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے گی۔یہ ایک نفسانی خواہش ہے جس کا اسلام سے کوئی بھی تعلق نہیں اگر اسلام سے محبت ہوتی اس مولوی کو تو اسلام کے ساتھ پاکستان کی گلیوں، اس کے شہروں ،اس کے گھروں ،اس کی بستیوں میں جو ظلم ہو رہا ہے، جو خون وہ اپنے بھائیوں کا کر رہے ہیں وہ اسلام کا خون کر رہے ہیں یہ ان کو دکھائی نہیں دیتا۔اسلام سے ایک ادنی بھی محبت ہوتی تو معلوم کر لیتے کہ یہ سارا ملک دن بدن تمام اسلامی قدروں سے محروم ہوتا چلا آرہا ہے۔اتنا جھوٹ ہے،اتنا فساد ہے، اتنا ظلم ہے،اتنی رشوت ستانی ہے، اتنی بے حسی ہے کہ دنیا کی تاریخ میں کم قوموں کے حالات پاکستان کے آج کے حالات جیسے آپ کو دکھائی دیں گے۔پس ان سب بلاؤں کا تو درحقیقت ایک ہی علاج ہے کہ یہ سب سے بڑی بلا جو ملاں ہے ساری قوم اس پر لعنت ڈالے اور دعائیں کرے اور گڑ گڑائے کہ اے خدا! ہمیں اس لعنت سے نجات بخش کیونکہ جب تک یہ لعنت ملک پر سوار ہے کبھی بھی اس ملک کے لئے کوئی نجات کی راہ نہیں نکل سکتی۔پس اگر کبھی پہلے ضرورت تھی کہ ملاں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور ساری قوم متحد ہو کر اس لعنت سے نجات پانے کا فیصلہ کرے تو آج یہ وقت ہے کیونکہ آج پاکستان کا ملاں پاکستان کی زندگی اور موت کا سوال بن کر کھڑا ہوا ہے اگر یہ ملاں اپنی اس نحوست کے ساتھ باقی رہا تو یہ ملک باقی نہیں رہ سکتا اس لئے ہر وہ محب وطن جس کو پاکستان سے پیار ہے ہر وہ اسلام سے محبت کرنے والا جس کو اسلامی قدروں سے پیار ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اس ملاں کے خلاف علم بغاوت بلند کرے اور قوم