خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 271

خطبات طاہر جلد ۹ 271 خطبه جمعه ۱۸ارمئی ۱۹۹۰ء پاکستان میں ملائیت کے پیدا کردہ بدترین حالات کا تذکرہ پاکستانی ملاؤں کو حضرت مسیح موعود کی زبان میں چیلنج خطبه جمعه فرموده ۱۸ رمئی بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: دنیا کی کوئی چیز بھی اور کوئی حالت بھی نہ کلیہ فائدے سے خالی ہوتی ہے نہ کلیہ نقصان سے خالی ہوتی ہے۔اب خوف و خطر اور خاص طور پر ایسے خوف و خطر کے ایام جو قوموں کے لئے زندگی اور موت کے سوال اٹھا رہے ہوں اگر چہ ایک ایسی حالت ہے جو ہر لحاظ سے معیوب اور تکلیف دہ معلوم ہوتی ہے لیکن ان حالات میں بھی بعض ایسے چھپے ہوئے فوائد موجود ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ ظاہر ہونے لگتے ہیں۔اسی طرح امن کی حالت بھی اور خوشحالی کی حالت بھی اگر چہ ایک بہت ہی پسندیدہ حالت ہے لیکن ایک لمبے عرصے تک اگر امن اور خوشحالی کا دور رہے تو اس دور میں بعض نقصانات بھی مضمر ہوتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ حضرت نوح کی قوم کو ایک لمبا زمانہ امن کا نصیب ہوا اور خوشحالی کا نصیب ہوا اور اس لمبے دور کے نتیجے میں ان کے اندر سے تمام خوبیاں غائب ہو گئیں اور ان کے اندر سے نیکی اور تقویٰ کا پانی اس طرح سے سوکھ گیا جس طرح لمبے عرصے تک برسات نہ ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ پانی سوکھ جایا کرتا ہے اور بدیوں نے طغیانیاں شروع کیں اور ایسا جوش دکھایا کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھر وہ عذاب نازل ہوا جس نے ان کے مقابل پر طغیانی دکھائی۔پس حالتوں کے بدلنے سے خود بخو دنتائج ظاہر نہیں ہوا کرتے