خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 266
خطبات طاہر جلد ۹ 266 خطبہ جمعہ ا ارمئی ۱۹۹۰ء دکھائی دیتی ہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان نصیحتوں پر عمل کرے گی اور بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ استحکام کا پروگرام بھی جاری ہو جائے گا۔جہاں تک پاکستان میں غیر احمدی علماء کا یا اور مخالفین کا یا حکومت کے کارندوں کا زور لگانے کا تعلق ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اللہ کے فضل سے وہ اس میں ناکام ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ درست ہے کہ بہت سی غلط فہمیاں جماعت کے متعلق پھیلائی گئی ہیں اور جس تیزی کے ساتھ جماعت نے پھیلنا شروع کیا تھا اس تیزی کے ساتھ وہاں اب نہیں پھیل رہی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جو ان کی انتہا تھی وہاں تک وہ پہنچ چکے ہیں اور اب وہاں سے واپسی شروع ہو چکی ہے۔میں نے بڑی باریک نظر سے اس تمام عرصے کا جائزہ لیا ہے اور سال بہ سال مقابلہ کر کے دیکھا ہے۔میں آپ کو بڑے وثوق کے ساتھ یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ وہ جو تبلیغ میں کمزوری آئی تھی ، وہ دور بھی اب اپنی انتہا تک پہنچ کر واپس ہونا شروع ہو گیا ہے جتنا زیادہ سے زیادہ زور لگا کر نقصان پہنچا سکتے تھے وہ پہنچا چکے اور کوئی ایک مہینہ بھی ایسا نہیں آیا بلکہ کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جب کہ جماعت احمدیہ پھیل نہ رہی ہو۔اگر چہ کم رفتار سے پھیلی لیکن پھیلی ضرور ہے۔اتنے حیرت انگیز دباؤ میں جماعت کا پھیلتے چلے جانا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک غیر معمولی قدرت کا نشان ہے اور جس کثرت کے ساتھ وہ مرتد کرنا چاہتے تھے اس کا ہزارواں حصہ بھی ان کو نصیب نہیں ہوا اور چند ایک جو مرتد ہوئے اس کے مقابل پر سینکڑوں نئے احمدی اور بہتر لوگ اور مخلص لوگ جماعت کو عطا ہوتے رہے مگر اب وہ جو کمزوری کا حصہ تھا اور وہ دور اب طاقت کے دور میں تبدیل ہونا شروع ہو چکا ہے کیونکہ ایک دو سال سے اطلاعوں کے مطابق مولویوں کی تیزی کے باوجو دلوگ احمدیت کی طرف مائل ہونا شروع ہو چکے ہیں۔اس لئے اس نظام کو اور مضبوط کرنا بہت ضروری ہے۔وہ جتنا بھی زور لگا ئیں یہ ایک بات یقینی اور قطعی ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو وعدے کئے ہیں جیسا کہ وہ ہمیشہ پورا کرتا چلا آیا ہے اب بھی ضرور پورا کرتا رہے گا اور کوئی نہیں جواس کو بدل سکے لیکن اگر ہم اپنے اندر مزید پاک تبدیلیاں پیدا کریں تو ان وعدوں کے ہم ایسے مستحق بن جائیں گے کہ وہ خدا نے پورے تو کرنے ہی ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام اور عزت اور اس بات کوملحوظ رکھتے ہوئے پورے کرنے ہوں کہ میں نے اپنے ایک پاکیزہ وفادار بندے