خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 22

خطبات طاہر جلد ۹ بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔22 خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء پہلے بھی میں نے بارہا اس بات کا ذکر کیا ہے تمام دوسرے بزرگوں کی کتابوں کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے جو ماضی میں گزرے ہیں، بڑے بڑے اعلیٰ مقامات تک پہنچے بہت ہی قرب الہی کی منازل انہوں نے طے کیں لیکن ان سب کی کتب میں دعا سے متعلق ایسے عارفانہ نکات آپ کو نہیں ملیں گے جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں وہ میسر آتے ہیں۔دعا کا اسباب سے جو رشتہ ہے اس کے متعلق بھی میں بار ہا روشنی ڈال چکا ہوں۔دعا مسبب الاسباب ہے اور ہر سبب سے پہلے ہونی چاہئے کیونکہ وہ لوگ جو پہلے سبب کی طرف یعنی دنیا کا ذریعہ اختیار کرنے کی طرف جھکتے ہیں بعد میں دعا کی طرف مائل ہوتے ہیں ان کی دعائیں اسی حد تک بے فیض رہ جاتی ہیں اگر ایک انسان اپنے دوستانہ تعلقات میں اس بات کا مشاہدہ کرے تو اس کو اپنے عام روز مرہ کے تجربے میں بھی یہ بات دکھائی دینے لگے گی اور اس کا جو عارفانہ نکتہ ہے وہ سمجھ آسکتا ہے۔ایک دوست جس کو جب ضرورت پیش آتی ہے، پہلے وہ دوسروں کی طرف بھاگتا ہے اور جب ہر طرف سے مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے پھر آپ کی طرف آتا ہے اس کا ایک تعلق آپ سے ضرور ہے لیکن ویسا نہیں جیسا اس شخص کا جو ہر ضرورت کے وقت سب سے پہلے آپ کا دھیان کرتا ہے اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔یہی رشتے بچوں اور ماؤں کے درمیان ، بچوں اور باپوں کے درمیان قائم ہوتے ہیں جو دوسرے انسانی رشتوں سے اس تعلق کو ممتاز کر دیتے ہیں۔پس سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ سے یہ امتیازی تعلق قائم ہونا چاہئے کہ ہر ضرورت کے وقت اور ہر خوف سے بچنے کی خاطر سب سے پہلے دھیان خدا تعالیٰ کا ذہن میں آئے اور بعد میں اسباب کی طرف طبیعت متوجہ ہو۔اسباب کی طرف طبیعت متوجہ ہونے کے متعلق یہ نکتہ ضرور ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ ہمارا خدا تمام کائنات کا خدا ہے روحانی دنیا کا بھی وہی خدا ہے اور جسمانی دنیا کا بھی وہی خدا ہے اس لئے اس سے ہم مستغنی نہیں ہو سکتے۔دعا اصل ہے، دعا ہی کے ذریعے ہم خدا سے تعلق جوڑتے اور اس سے مدد چاہتے ہیں مگر جو ذرائع اس نے بنائے ہیں، جو اسباب کی دنیا خود اس نے تخلیق فرمائی ہے، اس دنیا سے مستغنی نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ بھی ایک قسم کا خدائی کا دعوئی ہے۔گویا انسان اپنے آپ کو خدا کی تخلیق کے بعض حصوں سے بالا سمجھنے لگ جاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ خدا کی