خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 261
خطبات طاہر جلد ۹ 261 خطبہ جمعہ ا ارمئی ۱۹۹۰ء ہوں ایک بڑا مرحلہ یہ ہے پھر جو آمادہ ہو جائیں ان کیلئے اساتذہ کا مہیا کرنا یہ بہت بڑا مرحلہ ہے۔پھر کس طرح پڑھایا جائے۔کیا پڑھایا جائے؟ جب آپ اس مضمون میں داخل ہوتے ہیں تو مرحلہ در مرحلہ اور مراحل ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ایک کو حل کریں پھر دوسرا، دوسرے کو حل کریں تو تیسرا۔اب میں جب چند دن ہوئے ہارٹلے پول گیا وہاں نو مسلم احمدی جماعت خدا کے فضل سے بڑی مخلص ہے اور ہر جانے والا دیکھ کر یہ تاثر لیتا ہے کہ اللہ کے فضل سے بہت ہی مستحکم، بہت ہی عمدہ بہت ہی اخلاص سے بڑھی ہوئی جماعت ہے۔اس میں شک نہیں لیکن جب تربیت کے لحاظ سے ٹولیں تو علمی کمزوریوں کے لحاظ سے اتنے کثرت سے خلاء دکھائی دیتے ہیں کہ انسان اس سے خوف محسوس کرتا ہے کہ ان خلاؤں کو پر کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی نظام نہیں ہے۔یہاں لندن مسجد میں ہی ایک دوست تشریف لائے تھے یہاں ان کی بڑی عمر میں آمین ہوئی انہوں نے قرآن کریم ناظرہ بڑا اچھا پڑھنا سیکھا تو انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ اب تو اللہ کے فضل سے قرآن کریم پڑھنے والے مل گئے لیکن ان کو تر جمہ نہیں آتا۔اب جب میں گیا ہوں۔ان سے میں نے پوچھا تو پتہ لگا بغیر ترجمے کے سب پڑھا تھا تو سوال یہ ہے کہ ترجمہ سکھانا پھر آگے ایک بہت بڑا کام ہے۔ان سے میں نے گفتگو کی۔وہ اس بات پر آمادہ تھے کہ شروع میں آہستہ لیکن عربی زبان کے بنیادی قواعد سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد ترجمہ سیکھیں بجائے اس کے کہ صرف عربی پڑھ لی اور پھر انگریزی میں ترجمہ یادکرلیا کیونکہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب نہیں ہے جس کو خالصتہ ترجمے کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔قرآن کریم سے براہ راست استفادے کے لئے نہایت ضروری ہے کہ ترجمے کی بنیادوں سے انسان واقف ہو۔یہ پتہ ہو کہ یہ ترجمہ کیوں کیا جا رہا ہے۔عربی زبان میں فاعل کیا ہوتا ہے ، مفعول کیا ہوتا ہے۔مفعول عربی میں کیا ہوتا ہے۔اسم اور خبر کس کو کہتے ہیں۔غرضیکہ بہت سی اصطلاحیں ہیں۔ان سے میں اس وقت آپ کے دماغوں کو بھرنا نہیں چاہتا۔میں صرف یہ مثال دینا چاہتا ہوں کہ ترجمہ پڑھ لینا یعنی عربی پڑھنے کے بعد ساتھ لکھا ہوا ترجمہ پڑھ لینا ایک اور بات ہے کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور پہنچتا ہے لیکن براه راست قرآن کریم سے استفادہ کے لئے اس کے مضامین میں غوطہ خوری کے لئے نہایت ضروری ہے کہ بنیادی عربی گرائمر سے کچھ واقفیت ہو اور پتہ ہو کہ یہ ترجمہ کیوں کیا جا رہا ہے۔جب وہ شروع کریں گے تو پھر آگے اور مسائل پیدا ہوں گے پھر علم کی نئی کھڑکیاں کھلیں گی۔پھر نئے میدان سامنے