خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 241
خطبات طاہر جلد ۹ 241 خطبه جمعه ۲۷ / اپریل ۱۹۹۰ء سب سے عالیشان وہ دربار ہے جو رات کے وقت لگتا ہے اسے تہجد کا در بار کہا جاتا ہے۔( خطبه جمعه فرموده ۲۷ را پریل ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد اور تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: وہ ایک مہینہ رمضان کا جو ابھی گزرا ہے وہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے خدا تعالیٰ ہر سال ایک مہینے کے لئے ایک دربار لگاتا ہے اور بادشاہوں کا بھی یہی طریق ہے کہ وہ کبھی کبھی کچھ دن دربار لگانے کے لئے مخصوص کر لیا کرتے ہیں۔وہ لوگ جن کی عام طور پر رسائی نہ ہو وہ دربار میں حاضر ہو کر اپنی مناجات پیش کرتے ہیں اپنی حاجات پیش کرتے ہیں اور اس طرح ان کی اس دربار تک ایسے رسائی ہوتی ہے کہ بالعموم خالی ہاتھ نہیں لوٹتے۔تو اللہ تعالیٰ کی بھی ایک شان ہے کہ اس نے کئی قسم کے اپنے دربار جاری فرمائے ہوئے ہیں۔ایک مہینے کا یہ خصوصی در بار تو اب ختم ہوا لیکن آپ کو یا د رکھنا چاہئے کہ خدا کے ہاں صرف یہ ایک مہینہ ہی دربار لگانے کا نہیں۔ایک پانچ وقت کا روزانہ کا در بار بھی تو لگتا ہے۔وہ لوگ جو یہ احساس کرتے ہیں کہ رمضان اپنی برکتیں لے کر چلا گیا۔میں ان کو یاد کراتا ہوں کہ وہ لوگ جو پنچ وقتہ درباروں کی حاضری دینے والے ہیں ان سے رمضان کبھی برکتیں لے کر نہیں جایا کرتا۔برکتیں چھوڑ کر جایا کرتا ہے اور ہر دربار میں ان برکتوں کا اعادہ ہوا کرتا ہے۔پھر اسی طرح ہفت روزہ دربار بھی تو لگتا ہے اور سب سے عالیشان وہ دربار ہے جو محرم راز لوگوں کا دربار ہے جو رات کے وقت لگتا ہے اسے تہجد کا دربار کہا جاتا ہے۔جس میں وہ لوگ جو دنیا کی