خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 239
خطبات طاہر جلد ۹ 239 خطبه جمعه ۲۰ اپریل ۱۹۹۰ء کر دیا کرتا ہے۔ لقاء کے دعویدار دنیا میں بہت ہوں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ لقاء کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پھر اگر انسان چھپانا چاہے بھی تو چھپ سکے۔ صاحب لقاء وجود میں کچھ علامتیں ظاہر ہوتی ہیں جو خدا سے تعلق کی علامتیں ہیں ۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا اور ابو ہریرہ کی یہ روایت ہے۔ آپ فرماتے ہیں خدا نے فرمایا کہ جس نے میرے ولی سے عداوت و دشمنی کی تو میں اسے اصلى الله جنگ کی خبر دیتا ہوں ۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرا ایسا مقرب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو پھر میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے (بخاری کتاب الرقاق حدیث نمبر : ۶۰۲۱) اب کوئی ملاں ہو تو کہے گا نعوذ باللہ من ذالك کیسی گستاخی والی بات ہے۔ خدا پاؤں بن جاتا ہے۔ لیکن وہی بات ہے جس کو وصل نصیب ہی نہ ہو اس کو کیا پتا کہ وصل کیا ہوتا ہے۔ ہجر میں بیٹھے اندھیری راتوں میں جو چاہیں آپ تصور کرتے پھریں۔ یہ تو ایک صاحب وصل کی خبر ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی علی بتا رہے ہیں ؟ محمد مصطفی ع بتا رہے ہیں جن سے زیادہ خدا سے محبت کے محبت کرنے والا کوئی نہیں تھا سے زیادہ خدا کے ادب اور احترام کا کوئی تصور بھی نہیں رکھ سکتا۔ آپ کو خدا نے خود بتایا کہ میرا بندہ جب مجھ سے پیار کرنے لگتا ہے تو مجھے دیکھو کہ میں پھر اس کے مقابل پر کتنا جھکتا ہوں یعنی عجز کا جن صلى الله مضمون اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ بندہ جب عاجزی میں کمال اختیار کرتا ہے تو پھر محبوب آقا اپنے آسمانی آقا کی عاجزی بھی تو دیکھو کہ وہ کیا رنگ اختیار فرماتا ہے۔ کہتا ہے میں اس سے محبت کرتا ہوں میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے۔ اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے کچھ مانگے تو ضرور اسے عطا کرتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ کا طلب گار ہو تو ضرور اسے اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں ۔ پس یہ ہے لقائے باری تعالیٰ جو ہم نے قرآن اور حضرت محمد مصطفی اللہ سے سیکھی اور جن کا عرفان پا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان باریک راہوں کو خوب کھول کر ہمارے سامنے روشن کر دیا ہے۔ پس یہ لقاء ہے جس کا ہمیں طالب ہو جانا چاہئے اور یہ رمضان اگر خدانخواستہ