خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 236
خطبات طاہر جلد ۹ 236 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء ذات کو بیان فرمایا کہ روزے کی جزاء میں خود ہوں۔اور پھر آخری عشرے میں تو عبادت ایک خاص معراج تک پہنچتی ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ روایت فرماتی ہیں کہ : كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا دخل العشر شد مئزره واحيا ليله وايقظ اهله (بخاری کتاب الصوم حدیث : ۱۸۸۴) صلى الله کہ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ آنحضرت مہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تھا یہاں عشر کو رفع کی حالت میں لکھا ہوا ہے۔جس کا مطلب ہے کہ عشرہ آیا ہے اور جو تر جمہ ہے وہ یہ لکھا ہوا ہے کہ دخل العشر کہ رسول اللہ یہ عشرہ میں داخل ہوتے تھے تو یہ ممکن ہے یہ لکھنے والی کی غلطی ہو یا یہی مضمون ہو کہ جب آخری عشرہ آجایا کرتا تھا ) شد مئزرہ آپ اپنی کمر کس لیا کرتے تھے اور صل الله۔اپنی رات کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔و ایقظ اهله اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔وہ شخص جس کی ہر رات زندہ ہو جس کا یہ دستور ہو کہ اپنے گھر والوں کو ہمیشہ جگا تا ہو اس کے متعلق جب یہ کہا جائے کہ آخری عشرہ میں یہ کرتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر معمولی فرق پڑا کرتا تھا۔اس وقت عبادت اپنی آخری حد کو پہنچا کرتی تھی راتیں جاگ اٹھتی تھیں۔خوا ہیں نور کما نے لگتی تھیں اور غیر معمولی شان کے ساتھ خدا آپ پر ظاہر ہوتا تھا اور اسی نظارے میں شامل کرنے کے لئے اپنے اہل و عیال کو بھی جگایا کرتے تھے کہ اٹھو اٹھو تم بھی اس نعمت سے محروم نہ رہو۔پس اب جو باقی دن رہ گئے ہیں ان دنوں میں آپ بھی یہی کر کے دیکھیں کیونکہ خالی ایک پہلو سے عبد بننے سے خدا نصیب نہیں ہوگا۔اگلا قدم عبد بننے کا بھی لازماً اٹھانا ہوگا یعنی عبادت کی طرف جب آپ آگے قدم بڑھائیں گے تو پھر صحیح معنوں میں آپ خدا کے سچے بندے بن سکیں گے اور پھر آپ کو لقائے باری تعالیٰ نصیب ہوگی۔پھر حضرت قتادہ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور اپنے حضور یہ عہد باندھا ہے کہ جو کوئی بھی انہیں ان کے وقت پر ادا کرتے ہوئے اور ان پر مداومت اختیار کرتے ہوئے ( یعنی یہ نہیں کہ کبھی پڑھ لیں اور کبھی نہ