خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 237
خطبات طاہر جلد ۹ 237 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء پڑھیں ،مستقل ہو جائے۔ہمیشہ پڑھنے لگے ) میرے پاس آئے گا۔(یعنی حاضر ہوگا قیامت کے دن اس حالت میں کہ وہ نمازوں کے رستے آیا ہو)۔فرمایا میں نے یہ عہد باندھا ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور جوان کی حفاظت نہیں کرے گا۔اس کے لئے میرے پاس کوئی وعدہ نہیں یہ تو نہیں فرمایا کہ میں لازماً اسے جہنم میں ڈالوں گا لیکن فرمایا کہ میں عہد کے معاملے میں اس سے آزاد ہوں۔پھر وہ میرے حضور کوئی وعدہ نہیں پیش کر سکتا کہ اے خدا ! تو نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے جنت میں ڈالے گا۔پس میں تو اس راہ سے حاضر ہوا ہوں کہ مجھے جنت عطا کرے(ابوداؤد کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۴۳۰) پنچ وقتہ نمازوں کو کتنی اہمیت ہے اور افسوس ہے کہ ابھی تک سو فیصدی جماعت کے متعلق میں یقین اور اطمینان سے نہیں کہہ سکتا کہ سارے پنج وقتہ نماز پر قائم ہو چکے ہیں اور اس کی حفاظت کرتے ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اس حدیث قدسی میں دو باتیں بیان فرمائیں ہیں۔ایک نماز کا قائم کرنا اسے اپنی تمام لوازم اور شرائط کے ساتھ کھڑا کرنا اور دوسرا ہے پھر اس کی حفاظت کرنا۔ضائع نہ ہونے دینا۔کبھی دین کے غلبے ہوتے ہیں، کبھی دوسرے کام ہوتے ہیں کبھی دنیا کے پھندوں میں انسان پھنسا ہوا ہوتا ہے۔جو حفاظت کرنے والا ہے وہ جس طرح شیرنی اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے وہ نماز کو کسی پہلو سے بھی آنچ نہیں آنے دیتا ہر خطرہ سے اس کو بچاتا ہے پس اگر جماعت احمد یہ اس طریق کو اختیار کرے تو یہ وہ طریق ہے جس طریق سے خدا تعالیٰ کی لقاء نصیب ہوگی ورنہ تصوراتی عشق سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔پھر حضرت عبداللہ بن الشخیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ย صلى الله قال اتيت رسول الله له وهو يصلي ولجوفه ازیر کازیر المرجل من البكاء (بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر : ۱۸۸۴) کہ انہوں نے بتایا کہ میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز ادا کر رہے تھے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ہنڈیا کے ابلنے کی طرح آواز آرہی تھی۔پس صرف نماز کا سوال نہیں ہے۔نماز کس طرح پڑھی جاتی ہے، کس کیفیت کے ساتھ پڑھی