خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 234 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 234

خطبات طاہر جلد ۹ 234 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء بڑی شان کے ساتھ کھول کر ہمارے سامنے رکھا ہے۔پھر اس جمعہ کا کہاں سے تصور پیدا ہوا جو آیا اور سب کچھ بخش کر چلا گیا اور پھر انسان عبادتوں سے غافل ہو کر یہ سمجھ لے اب وداع ہو گیا ہے۔اب میں یہ چاہوں کرتا پھروں۔صبر اور استقامت کے سوا کبھی بھی عبادت آپ کو کچھ عطا نہیں کرسکتی۔پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے جن کی عبادتیں ان کے ذاتی منافع سے وابستہ ہوتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی محبت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں۔ایسے بھی بہت سے لوگ ہیں جو اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔چنانچہ جب ان کی دعائیں اس رنگ میں قبول نہ ہوں جس طرح وہ چاہتے ہیں تو وہ اس عبادت سے الگ ہو جاتے ہیں ، اس سے غافل ہو جاتے ہیں یا بعض دفعہ بدظن ہو کر خدا تعالیٰ ہی کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔قرآن کریم ان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ عَلَى حَرْفٍ (حج : ۱۲) ایسے لوگ بھی تمہیں بنی نوع انسان میں دکھائی دیں گے جو خدا کی عبادت کناروں پر بیٹھ کر کرتے ہیں یعنی وہ اللہ میں سفر اختیار نہیں کرتے بلکہ اس طرح جیسے کنارے پر بیٹھ کر گھر سے باہر کوئی فقیر مانگ رہا ہو۔خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ آؤ اور میری ذات میں سفر کرو۔میں تمہارے ساتھ ہوں اور پھر مجھ سے مانگو لیکن وہ اپنے آپ کو خدا کے سپرد نہیں کرنا چاہتے ان کو اس تصور میں کوئی مزہ نہیں ملتا۔کوئی لذت دکھائی نہیں دیتی کہ وہ خدا ہی کے ہو جائیں پس وہ چاہتے ہیں کہ کنارے پر بیٹھ کر ہاتھ بڑھا کر جو مانگنا ہے مانگ لیں۔فَاِنْ اَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ (حج : ۱۲) پھر خدا کی طرف سے کوئی خیران کو عطا ہو جائے، کوئی بھیک مل جائے تو بڑے مطمئن ہو جاتے ہیں جس طرح فقیر دعائیں دیتا چلا جاتا ہے، کہتے ہیں جی خدا سے ہم نے پالیا۔جو ہم نے پانا تھا جی پالیا۔لیکن وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةُ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ اگر خدا ان کو آزمائش میں مبتلا کر دے۔ان کی طلب پوری نہ فرمائے تو وہ اپنے منہ کے بل یا منہ کا رخ اختیار کر کے جدھر منہ اٹھے۔یہ محاورہ اس قسم کا ہے کہ جس کا ترجمہ یوں ہونا چاہئے۔انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِے کہ پھر جدھر منہ اٹھے پکڑٹ دوڑ پڑتے ہیں کہ کچھ نہیں ملا جی کچھ نہیں ملا۔یہ ویسا ہی قصہ ہے اس سے ملتا جلتا ایک لطیفہ ہے کہ ایک شخص نے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو اس نے کہا کہ خدا کے سامنے ہاتھ پھیلاؤ تو اس نے واقعہ ایک جائے نماز خریدی اور ایک