خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 227 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 227

خطبات طاہر جلد ۹ 227 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء عاجزی اختیار کریں گے کہ آپ کا کچھ بھی نہیں سب مالک کا ہے اور آپ تو ایک جواب دہ ہیں اس سے بڑھ کر آپ کی کوئی بھی حیثیت نہیں تو آپ کے سارے تکبر منہدم ہو جائیں گے۔ آپ ایک بچھی ہوئی راہ بن جائیں گے اور کوئی بھی اونچ نیچ اور کبھی آپ کی ذات میں باقی نہیں رہے گی حقیقت آپ کو اپنے عجز کا عرفان نصیب ہو جائے گا۔ پھر آپ عبادت کے لائق بنیں گے پھر عبادت کی ساری مسافت آپ کے سامنے کھلی پڑی ہوگی پھر جتنا زیادہ آپ خدا کی عبادت میں یعنی بندگی میں آگے بڑھیں گے اتنا ہی زیادہ آپ عبد کہلانے کے مستحق ہوں گے۔ پس آنحضرت ﷺ نے غریبی اور عجز کی راہ سے اپنے خدا کو پانے کی راہ اختیار فرمائی اور جب آگے بڑھے تو پھر عبادت میں اتنی ترقی کی کہ عبادت کے نتیجے میں پھر آپ کو وہ لقاء نصیب ہوئی جس لقاء کے حصول کے لئے میں آپ کو مسلسل نصیحت کر رہا ہوں اور دیکھیں کہ عبد کے ہر مفہوم میں آپ درجہ کمال کو پہنچ گئے ۔ عبد کے عام مفہوم میں یعنی عاجزی اور حد سے زیادہ تذلل اختیار کرنا اور اپنے نفس کی طرف کوئی بھی بڑائی منسوب نہ کرنا ، اس میں حضرت رسول اکرم ﷺ سے بڑھ کر کوئی عاجز بندہ کبھی دنیا میں پیدا نہیں ہوا اور پھر اپنے وجود کو کلیۂ خدا کے سپرد کر دینا اور اس کی عبادت میں منہمک ہو جانا اور اس کی عبادت میں اپنے آپ کو کھودینا اس پہلو سے بھی دنیا میں کبھی کوئی انسان آپ سے بڑھ کر عبادت گزار پیدا نہیں ہوا۔ پس اس لحاظ سے عبد کامل تھے تو آپ تھے عام بندے کے معنوں میں بھی ، انسانی معنوں میں بھی آپ انسانیت کے درجہ ء کمال کو عجز میں درجۂ کمال حاصل کر کے پہنچے اور عبد ہونے کا حق ادا کر دیا اور خدا کی عبادت میں بھی عاجزانہ عبادت کے ذریعے آپ درجہ کمال کو پہنچے اور خدا کے عاجز بندہ ہونے کا حق ادا کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اگرچہ مختلف انبیاء کو مختلف القابات ملے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت محمد مصطفی اللہ کے سوا کسی کو عبد اللہ نہیں کہا گیا اور یہ سب سے بڑا لقب ہے جو کسی بندے کو خدا تعالیٰ عطا کرتا ہے یا کر سکتا ہے۔ ان معنوں میں کہ عقلی لحاظ سے اس سے بڑا لقب موجود نہیں ہے۔ عليسة حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام خود تو یہ کہتے ہیں کہ انی عبد اللہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور ہر نبی ہی نہیں ہر بندہ یہی دعویٰ کرتا ہے کہ میں خدا کا بندہ ہوں جسے ذرا بھی عرفان حاصل ہو وہ یہ کہتا ہے کہ میں خدا کا بندہ ہوں۔ پھر ایک جگہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام یہ بھی عرض کرتے ہیں یعنی