خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 18
خطبات طاہر جلد ۹ 18 خطبه جمعه ۵ / جنوری ۱۹۹۰ء بھی منہ مارتی ہیں ۔ یہ نہ سمجھیں کہ وہ صرف اچھے پھول پر ہی منہ مارتی ہیں اور اگر چہ بہت کم ایسا ہوا ہے مگر دنیا کے لئے چونکہ عبرت کا مضمون بیان ہو رہا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں میں یہ تجربہ بھی ہمیں بتا دیا کہ بعض شہد کی مکھیاں بعض دفعہ زہر یلا شہر بنا لیتی ہیں اور وہ شہر بڑا سخت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض صورتوں میں مہلک بن جاتا ہے۔ چنانچہ محققین نے غور کر کے تحقیق کر کے پتا کیا ہے کہ کہاں کہاں کن علاقوں میں ایسے خطرات موجود ہیں مگر بالعموم شہید اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جیسا کہ آپ جانتے ہیں شفاء ہی کا موجب ہے۔ اس تجربے میں تو یہ بتانا مقصود ہے کہ بعض دفعہ تم شہد کی تلاش کرتے کرتے زہر بھی اکٹھا کر سکتے ہو۔ تو وحی کے تابع رہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خلیفہ وقت جس کو خدا تعالیٰ نے تم پر نگران مقرر کیا ہے۔ تم اس کے سامنے Royal Jelly کے طور پر اپنی عقلوں کا نچوڑ پیش کیا کرو اور ہر بات نہیں پیش کرنی یہ بھی اس میں حکمت ہے۔ ورنہ تو خلیفہ وقت کو کسی بات کے سوچنے کا وقت ہی نہ ۔ ملے ۔ اگر کروڑ احمدی اور آگے سے اللہ کے فضل کے ساتھ پتہ نہیں کتنے ارب بننے والے ہیں ، وہ ہر بات لکھیں اور ہر بات کو وہ اپنی عقل کا خلاصہ قراردیں تو یہ ناممکن ہے کہ ان خطوں کو کوئی خلیفہ سرسری طور پر بھی پڑھ سکے اس لئے Royal Jelly کا مضمون آپ کو یہ ہدایت کر رہا ہے کہ پہلے ان ساری باتوں پر غور کر کے اس کا خلاصہ بنایا کریں اور جب آپ سمجھیں کہ ایک نہایت ہی اعلیٰ اور لطیف معرفت کا نکتہ ہاتھ آگیا ہے جو اس لائق ہے کہ اس کو خلیفہ وقت کے سامنے پیش کیا جائے تو پھر آپ پیش کیا کریں اور پھر وہ آپ کی حفاظت کرے گا، اگر وہ سمجھے گا کہ اس میں غلطی سے ، عمد انہیں کوئی زہریلی سوچ کا کوئی حصہ داخل ہو گیا ہے تو وہ آپ کو سمجھائے گا چنانچہ میں ایسے ہی کرتا ہوں ۔ بعض دفعہ لوگ اپنی طرف سے بڑا معرفت کا نکتہ بھیجتے ہیں اور مجھے اس میں زہر نظر آرہا ہوتا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اگر وہ اس سوچ سے نہیں بچیں گے تو ان کو بھی ہلاک کر دے گی میں ان کو محبت اور پیار سے سمجھاتا ہوں کہ سوچ کی ان راہوں سے باز آجا ئیں اور الا ماشاء الله اکثر احمدی بہت ہی پیارا رد عمل دکھاتے ہیں۔ کہتے ہیں جزاك الله ۔ ہم سمجھ گئے ہیں کہ ہم کیا غلطی کر رہے تھے اور ہم تو بہ کرتے ہیں تو یہ ہے وہ مضمون جو ان آیات میں بیان ہوا ہے، اگرچہ سارا مضمون تو بیان کرنے کا وقت نہیں تھا مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ اہم باتیں جو جماعت کے سامنے رکھی جانی چاہئیں تھیں ۔ ان میں سے ایک حصہ میں نے