خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 219
خطبات طاہر جلد ۹ 219 خطبه جمعه ۲۰ را بریل ۱۹۹۰ء جمعۃ الوداع کو جمعۃ الوصال بنادیں الله رسول کریم عملے کے وسیلہ ہونے کی حقیقت (خطبه جمعه فرموده ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: آج آخر وہ جمعہ کا دن آگیا جس کی امت محمدیہ کو ہر سال بشدت انتظار رہتی ہے۔یا انتظار کو اگر مذکر لیا جائے تو جس کا امت محمدیہ کو ہر سال شدت سے انتظار رہتا ہے۔یہ انتظار بعض لوگوں کی صورتوں میں تو سال بھر یہ پھیلا ہوا ہے اور بعض لوگوں کی صورتوں میں ایک مہینے پر پھیلا ہوا ہے یعنی رمضان میں شروع ہوتا ہے اور رمضان میں ختم ہو جاتا ہے اور بعض صرف ایک دن کو نقطے کی طرح اپنی نگاہ کے سامنے رکھتے ہوئے اس کا انتظار کرتے ہیں۔ان کے انتظار کا سالوں یا مہینوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اس جمعہ کو جمعتہ الوداع اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ رمضان کا آخری جمعہ ہے اور اس کے بعد پھر اس سے جدائی ہے۔میں نے گزشتہ سال بھی اس مضمون پر روشنی ڈالی تھی کہ ہمارے نزدیک تو در حقیقت یہ جمعۃ الوصال ہے کیونکہ یہ جمعہ اگر کوئی اہمیت رکھتا ہے تو سوائے اس کے اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ وہ مبارک دن ہے جس میں وصل الہی کا سب سے زیادہ امکان ہے۔اور وصل کے بعد وداع کا تصور تو بہت بڑا دردناک تصور ہے۔یہ تو ساری خوشیوں کو المیہ میں تبدیل کر دینے والا تصور ہے۔پس اگر جمعتہ الوداع کا یہ معنی ہے کہ الحمد للہ کہ یہ جمعہ آیا اور آکر چلا گیا پس اسے رخصت کرو اور جس طرح