خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 214

خطبات طاہر جلد ۹ 214 خطبه جمعه ۱۳ راپریل ۱۹۹۰ء کریں اپنی بیٹیاں سمجھا کریں اور بہوؤں کو سمجھایا ہے کہ تم اپنے دوسرے گھروں میں جا کر اپنی ماں کی طرح سلوک کیا کرو لیکن اس کے باوجود لوگ سنتے ہیں اور شاید دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں یا سنتے ہی نہیں اور محض ظاہری طور پر کانوں کے پر دے مرتعش ہوتے ہیں کیونکہ یہ شکایتیں پھر بھی آتی رہتی ہیں۔بڑے بڑے تکلیف دہ خط بعض بچیوں کے ملتے ہیں کہ ہم گئیں تو ہماری جو نسبتی بہنیں ہیں وہ اس طرح سلوک کرتی ہیں گویا کہ میں نے ان کے بھائی پر ڈاکہ ڈالا ہوا ہے اور وہ جب تک مجھے ذلیل و رسوا نہ کر دیں کہ یہ ہمارا زیادہ ہے اور تمہارا کم ہے اس وقت تک ان کو چین نصیب نہیں ہوتا۔ساسیں ہیں جو ہر وقت ہمارے خاوندوں کے کان بھرتی رہتی ہیں۔کئی خطوط اس قسم کے ملتے ہیں کہ جب تک تم اس کو رسوا کر کے ذلیل کر کے میرے سامنے جھکاؤ نہیں تم میرے بیٹے نہیں اور اس میں یہ نقص ہے اور اس میں وہ نقص ہے۔اس کے برعکس دوسری طرف سے بھی شکا یتیں ملتی ہیں تو وہ راہیں کون سی تھیں جن راہوں سے آنحضرت ﷺ نے خدا کو پایا۔ان میں سے ایک راہ صلہ رحمی کی راہ تھی۔اپنے خاندانی تعلقات کو درست کیا اور کوئی رشتے دار آپ کا انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا کہ کبھی بھی حضور ا کرم صلى الله سے اس کو کسی قسم کی جائز شکایت پہنچی ہو۔پھر دوسروں کے بوجھ اٹھانا ہیں۔تکسب المعدوم۔مٹے ہوئے اخلاق کو زندہ کرنا ہے نہ کہ زندہ اخلاق کو مٹا دینا ہے۔آج دنیا میں احمدیت اور غیر احمدیت کا یہ فرق ہے جو ظاہر ہونا چاہئے۔کروڑ ہا انسان ایسے ہیں جو آج ان اخلاق کو جو انہوں نے اپنے آباؤ اجداد سے پائے ، مٹانے کے درپے ہیں اور اس طرح ملیا میٹ کر رہے ہیں کہ دیکھتے دیکھتے ہماری گلیوں ، ہمارے شہروں کو چوں، ہمارے گھروں کے چہروں سے وہ اخلاق مٹتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔بداخلاقی سیاہی کی صورت میں آپ کو دیواروں پر دکھائی دے گی، ہر قسم کے گندے کلمات وہاں لکھے ہوئے دکھائی دیں گے، ہر قسم کی گندی تصویریں وہاں دکھائی دیں گی۔لیکن یہ ظاہری تصویریں نہیں ہیں۔یہ دلوں کی تصویریں ہیں جو اچھل اچھل کر باہر نکل رہی ہیں۔اخلاق معدوم ہورہے ہیں۔پس احمدی اگر اخلاق کو قائم نہیں کریں گے تو کیسے خدا کو پائیں گے۔ایک ایسا شخص جو اپنی بدخلقی سے باز نہیں آتا۔گندی زبان استعمال کرتا چلا جاتا ہے، اپنے بھائی سے حقارت سے پیش آتا ہے ،اپنے بیوی بچوں سے ظلم کا سلوک کرتا ہے اور تلخی سے ان سے باتیں کرتا ہے۔خیال نہیں کرتا کہ ان کے بھی دل ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچوں کے