خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 213

خطبات طاہر جلد ۹ 213 خطبہ جمعہ ۱۳ار اپریل ۱۹۹۰ء بنا دیا گیا۔پس خدا سے تعلق اور بندوں سے روگردانی خدا کی محبت اور خدا کے پیار کی جستجو اور بندوں سے بے مہر ہوجانا اور اپنی محبتیں ان پر سرد کر دینا یہ دو متضاد چیزیں ہیں۔یہ کبھی اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔پس اس رمضان المبارک میں یہ بھی یادرکھیں کہ آنحضرت ﷺ رمضان المبارک میں اس معالی طرح خیرات کیا کرتے تھے ، اس طرح غریبوں کے دکھ بانٹا کرتے اور ان کے لئے آسائشیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ آپ تو بادصبا کی طرح ہمیشہ ایک چلنے والے فیض پھیلانے والے وجود تھے، ہمیشہ ہی چلا کرتے تھے لیکن رمضان کے دنوں میں تو یوں لگتا تھا جیسے یہ بادصبا آندھی بن گئی ہے ( بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر :۱۷۶۹)۔اس کثرت سے آپ فیض پھیلاتے تھے۔پس میں نے جو جماعت کو پہلے بھی ایک دفعہ توجہ دلائی تھی کہ اپنی عید میں بھی غریبوں کو شامل کریں۔میں اس ضمن میں اس کی یاد دہانی بھی کرواتا ہوں۔اس رمضان المبارک میں اپنے نفوس کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آپ کا کس حد تک اللہ کے بندوں سے تعلق ہے۔خدا کے بندوں کے لئے اپنے وجود کو جھکا ئیں اور پھر دیکھیں کہ کس طرح خدا کی رحمت آپ کی طرف جھکتی ہے۔آپ خود آسمانوں کی طرف نہیں اٹھ سکتے۔ہاں آسمانوں والا اگر جھک کر آپ کو اٹھا لے تو پھر آپ اٹھائے جائیں گے۔اس مضمون کو سمجھنے کے بعد اگر بنی نوع انسان کے تعلقات میں آپ وہ حسن پیدا کریں جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے تعلقات میں تھا۔جس نے آپ کو رفعتیں عطا کیں، جس نے آپ کو وسیلہ بنا دیا۔تو پھر آپ لقاء کی ایک توقع رکھنے کے حقدار بن جائیں گے۔پھر خدا بہتر جانتا ہے کہ کس حد تک آپ اس کی نگاہ میں حقدار ہیں کہ نہیں لیکن کم سے کم اپنی نظر میں تو آپ ایک معقول طریق پر سوچ سکتے ہیں کہ ہاں میں بھی شاید لقاء والوں میں داخل کر لیا جاؤں لیکن اس کے بغیر نہیں۔اس کے بغیر یہ محض کہانیاں ہیں محض جذباتی خیال کی باتیں ہیں کہ مجھے رسول اللہ اللہ سے بڑی محبت ہے۔بڑا عشق ہے۔لیکن جب راہیں اختیار کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ راہیں اختیار نہیں کی جاتیں۔میں نے بار ہا نصیحتیں کی ہیں کہ اپنے خاندانی تعلقات کو بہتر کریں۔اپنے روز مرہ کے ہا تعلقات میں سوچیں کہ صلہ رحمی کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔کس طرح میں نے بار بار آپ کو سمجھایا ہے کہ ساسوں کو چاہئے کہ دوسروں کی بیٹیاں جب اپنا گھر چھوڑ کر ان کے گھر میں آجاتی ہیں تو وہ ان پر رحم کیا