خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 212

خطبات طاہر جلد ۹ 212 خطبه جمعه ۱۳ راپریل ۱۹۹۰ء آپ کا وہم نہیں۔یہ کوئی اور واقعہ نہیں ہورہا بلکہ اس کی ایک ٹھوس وجہ موجود ہے۔جس قسم کے آپ ہیں ان سے خدا ایسے ہی سلوک کیا کرتا ہے یعنی آپ کو جو نبوت عطا ہوئی ہے یہ تو بہر حال وہمی ہے لیکن آپ یہ عرض کر رہی تھیں آنحضور ﷺ کی خدمت میں آپ کے اندر وہ صفات موجود ہیں جن کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے اور پھر ایسے بندوں کو نبوت عطا کرتا ہے۔وہ صفات کیا ہیں؟ عرض کیا۔انک لتصل الرحم وتحمل الكل وتكسب المعدوم وتقرى الضيف وتعين على نوائب الحق ( بخاری کتاب الوحی حدیث نمبر (۲) کہ اے محمد ! كلا والله ما يخزيك الله ابدا ہر گز نہیں۔خدا کی قسم ! خدا تجھ جیسوں کو کبھی ضائع نہیں کیا کرتا۔کسی قسم کا خوف نہ کھائیں۔آپ وہ نہیں ہیں جو ضائع کر دیئے جاتے ہیں کیونکہ اگر آپ ضائع کر دیے جائیں تو دنیا سے تمام نیکیاں ضائع کر دی جائیں گی۔پھر غریبوں ، مجبوروں ، یتیموں ، بے سہاروں کا پوچھنے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔انك لتصل الرحم تو وہ شخص ہے جس نے رشتوں کے احترام قائم کر دیئے ہیں۔جس نے بہن کو بھائی سے محبت کرنی سکھا دی ہے، بیٹوں کو ماں کی عظمت بتائی ، ماں باپ کو اپنے بیٹوں سے تعلق سمجھایا۔سارے رشتے جو ادب اور احترام اور پیار اور محبت کے تقاضے کرتے ہیں وہ آپ نے قائم کئے ہیں حالانکہ ابھی نبوت نصیب نہیں ہوئی تھی۔وتحمل الکل۔وہ خدا کے بندے جن کی کمریں بوجھوں سے ٹوٹ رہی تھیں۔کوئی ان کا بوجھ اٹھانے والا نہیں تھا۔تحمل الکل۔تیری عادت بن چکی ہے تو آگے بڑھتا ہے اور ایسے مظلوموں کے بوجھ اٹھا لیتا ہے۔وتكسب المعدوم۔اور وہ تمام اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے تھے ان میں سے ایک ایک کو تو اپنی روزانہ کی زندگی میں زندہ کرتا چلا جارہا ہے۔وتــقـــرى الضيف تو بے حد مہمان نواز ہے۔اور مہمانوں کے ساتھ بہت ہی حسن سلوک کرنے والا ہے۔وتعین علی نوائب الحق اور آسمان سے جو بلائیں نازل ہوتی ہیں بنی نوع انسان پر، تو آگے بڑھتا ہے اور ان بلاؤں میں ان کے ہاتھ بٹاتا ہے اور ان کے دکھ بانٹتا ہے۔پس دیکھیں ! وسیلہ جس کو بنایا گیا ہے خود وہ خدا تک کن راہوں سے پہنچا تھا۔وسیلہ بنا کیسے؟ وسیلہ بنا ہے خدا کے بندوں کے ساتھ تعلق قائم کر کے۔تب اُس نے خدا کو پایا ہے۔یہ وہ راہیں ہیں جن راہوں سے خدا کا وصال اسے نصیب ہوا اور ایسا وصال کہ ہمیشہ کے لئے اس کو دنیا کے لئے وسیلہ