خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 209

خطبات طاہر جلد ۹ 209 خطبہ جمعہ ۱۳ اپریل ۱۹۹۰ء و ہی مضمون ہے جسے مستقل سجدے کے مضمون کے طور پر قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔ صلى جہاں تک راہوں کا تعلق ہے، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔ عجز کی راہ کہنے کو تو آسان لفظ ہے مگر اسے پہچاننا مشکل کام ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ جب تک ایک عارف باللہ عاجز سے عجز کا مضمون سیکھا نہ جائے ، اس وقت تک انسان کو یہ راہ نصیب نہیں ہوسکتی۔ مختلف راہوں میں جو سب سے بنیادی راہ ہے وہ عجز کی ہے لیکن اس کا عرفان انبیاء سے حاصل ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں ۔ تبھی قرآن کریم انبیاء کو وسیلے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یعنی یوں کہنا چاہئے کہ قرآن کریم نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو ایک وسیلے کے طور پر پیش فرمایا ہے اور تمام دوسرے انبیاء بھی اپنے اپنے وقتوں میں اپنے وسیلے ہونے کا مضمون اپنے متبعین کے سامنے رکھتے ہیں ۔ پس جو را ہیں انبیاء اختیار کرتے ہیں ان راہوں سے گزر کر خدا ملے گا اور انبیاء نے ہمیشہ عجز کی راہوں سے خدا کو پایا ہے۔ یہ وہ مضمون ہے جسے آپ کو خوب اچھی طرح ذہن نشین رکھنا چاہئے ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ عرض کیا کہ ترے کوچے میں کن راہوں سے آؤں تو جواباً اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ تیری عاجزانہ را ہیں اس کو پسند آئیں ( تذکرہ صفحہ: ۵۹۵) کیسا پیارا جواب ہے۔ جس طرح تو نے اپنے عشق کا اظہار کیا ہے۔ جس عاجزی کے ساتھ تو میرے حضور بچھ گیا ہے۔ یہی تو راہ ہے جس کی مجھے تلاش تھی، یہی تو راہ ہے جو مجھ تک پہنچاتی ہے۔ پس تیرے سوال میں ہی تیری بات کا جواب موجود ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے مولا ! ترے کوچے میں کن راہوں سے آؤں۔ میں بتاتا ہوں کہ یہی راہیں جو مجھے پسند ہیں۔ انہیں راہوں پر چلتا رہ۔ یہ تیری عاجزانہ راہیں ہیں جو مجھے پسند آئی ہیں۔ صلى پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو بھی جب وسیلہ فرمایا گیا تو ہم اس مضمون پر غور کرتے ہیں تو حیران ہو جاتے ہیں کہ وسیلہ کہنے کے باوجود جب خدا یہ اعلان کرتا ہے کہ یہ جو محمد کی راہ ہے اس صلى الله علی راہ سے مجھ تک آؤ۔ اس رستے سے مجھ تک پہنچو تو آنحضرت ﷺ خود اپنے متعلق کیا سوچتے ہیں اور کیا طرز عمل اختیار فرماتے ہیں ۔ آپ کو پتا ہے یا ان لوگوں کو جنہوں نے اذان کے بعد کی دعاسنی ہوئی ہے، وہ کم سے کم جانتے ہیں کہ اس دعا میں حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں یہ سکھایا کہ تم میرے لئے بھی دعا کیا کرو اور یہ دعا کیا کرو اللهم ات محمد الالوسيلة والفضيلة والدرجة الرفيعة وابعثه مقاما محمود الذي وعدته (بخاری کتاب الاذان حدیث نمبر : ۵۷۹) کہ اے ہمارے آقا !