خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 206 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 206

خطبات طاہر جلد ۹ 206 خطبه جمعه ۱۳ار اپریل ۱۹۹۰ء سمجھا ئیں کس طرح ہم تمہیں عقل دیں کہ جب وہ نشانات ظاہر ہوں گے تم نہیں دیکھ سکو گے۔تم پھر بھی انکار کرتے چلے جاؤ گے۔یہ مرض کیا ہے؟ یہ آیت جس پر ہم غور کر رہے ہیں یہ بتاتی ہے کہ تکبر کی مرض ہے۔كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا وہ دیکھیں گے ہر قسم کے نشانات لا يُؤْمِنُوا بِهَا لیکن بدنصیبوں کو یہ توفیق نہیں ملے گی کہ ان آیات سے فائدہ اٹھا کر ایمان حاصل کرلیں۔وَاِنْ تَرَوُا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ہاں ہر بھلائی کی راہ دیکھ کر اس سے ان کے قدم رک جائیں گے۔وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ہاں جب وہ ٹیڑھی اور کج را ہیں دیکھیں گے تو ان پر آگے قدم بڑھائیں گے اور تیزی کے ساتھ ان کو قبول کریں گے۔ذلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِايْتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غُفِلِينَ یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے نشانوں کا انکار کر دیا ہے۔وَكَانُوا عَنْهَا غُفِلِينَ اور وہ اس سے غفلت کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔پس متکبر قوموں کے لئے کچھ بھی بھلائی باقی نہیں رہتی اور ان کی یہ پہچان بن جاتی ہے کہ وہ عقل کی بات دیکھ کر اس سے رک جاتے ہیں اور غلط اور کج بات دیکھ کر اس میں آگے بڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔پس ایسی قومیں دن بدن اپنی اخلاقی، سیاسی، معاشی، تمدنی، اقتصادی ہر پہلو سے انحطاط پذیر ہو جاتی ہیں کیونکہ تکبر کے نتیجے میں جب وہ خدا کے عرفان سے غافل رہ جاتے ہیں یا حجاب پیدا ہو جاتا ہے تو چونکہ نو ر دراصل اللہ ہی کا نور ہے، اس لئے ان کی عقلوں میں دوسرے نور کو پہچاننے کی بھی استطاعت باقی نہیں رہتی۔پھر فرمایا۔اِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُوْنَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ (الاعراف: ۳۰۷) اس کے برعکس وہ لوگ جو تیرے رب کے حضور ہیں۔لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وہ خدا کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ اور اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس کے حضور سجدوں میں پڑے رہتے ہیں۔پس یہ جو سجدہ ہے، یہ روح کا سجدہ ہے، رجحان کا سجدہ ہے یہ اپنے تعلقات کا ایک سجدہ ہے۔جو عارضی طور پر اختیار نہیں کیا جاتا کہ سجدہ کیا اور پھر سجدے سے الگ ہو گئے۔یہ وہ دائمی سجدہ ہے جس میں ایک غیر متکبر اور عاجز بندہ خدا کے