خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 16
خطبات طاہر جلد ۹ 16 خطبہ جمعہ ۵/جنوری ۱۹۹۰ء پس جماعت کی مجموعی طاقت کا راز اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کریم کے پھولوں کا رس چوسے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاکیزہ کلمات کا رس چوسے اور پھر تفکر اختیار کرے اور عاجزی کے ساتھ ایسا کام کرے۔تکبر کے ساتھ نہیں، اپنے نفس پر بناء کرتے ہوئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی ذات پر بناء کرتے ہوئے اور وحی کی روشنی میں۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے جب ہم وحی تک واپس پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پھر عام انسانوں میں سے صاحب وحی انسان یعنی جن کی خاطر وحی نازل ہوئی جنہوں نے وحی پر عمل کیا وہ پیدا ہوتے ہیں اور پھر جب وہ غور وفکر کرتے ہیں تو پھر ان میں سے وہ انسان پیدا ہوتے ہیں جن کو بطور خاص وحی نصیب ہوتی ہے اور جن کو وحی نصیب ہو جائے ان کا علم پھر کامل ہو جاتا ہے۔وہ لوگ ہیں پھر جو صحیح معنوں میں شہد پیدا کرتے ہیں۔پس آپ دیکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ بھی تو ماضی میں کتنے بڑے بڑے علماء پیدا ہوئے۔جنہوں نے قرآن پر بھی غور کیا اور حدیث پر بھی غور کیا اور اچھے اچھے مضامین نکالے مگر وہ شفا کا رنگ وہ حسن اور وہ جمال اور وہ خوشبو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں آپ کو ملتی ہے۔جو آپ نے وحی پر غور کرنے کے بعد وحی کی روشنی میں مضامین حاصل کئے ہیں ان کا رنگ ہی اور ہے۔پس مراد یہ ہے کہ پھر اس مقام کی طرف آگے بڑھو جس میں تم خود بحیثیت ایک ذات کے صاحب وحی بن جاؤ گے اور جب تم صاحب وحی بن جاؤ گے تو پھر یقینی طور پر تمہارے کلام میں شفاء پیدا ہو جائے گی اور تمہارے مضامین بہت اعلیٰ درجے کا رنگ اختیار کر لیں گے۔شہد کی مکھی کی مثال میں نے پہلے بھی ایک دفعہ دی تھی۔یہ جماعت احمدیہ کے اوپر عمومی طور پر بھی اطلاق پاتی ہے اور ایک سے زیادہ صورتوں میں اطلاق پاتی ہے۔شہد کی مکھیاں پھولوں میں گھومتی ہیں، مختلف پھلوں تک پہنچتی ہیں ان کے رس چوستی ہیں اور ایک غذا بناتی ہیں جس کو شہد کہا جاتا ہے اور اس غذا کے رنگ بھی مختلف ہیں ان کی تاثیریں بھی مختلف ہیں۔لیکن اس کے علاوہ جب وہ اس غذا کو استعمال کرتی ہیں تو اس میں سے ایک اور اعلیٰ درجے کی غذا بھی نکالتی ہیں۔یعنی شہر میں سے ایک شہد کا رس تیار کرتی ہیں اور اس کا نام Royal Jelly ہے۔یعنی شاہی جیلی ، وہ اپنے لئے نہیں ا رکھتیں یا ضرور اس سے کچھ استفادہ کرتی ہوں گی وہ اس کو شہد کی مکھی کے حضور پیش کر دیتی ہیں اور وہ شہد کی مکھی دراصل صرف پھولوں کے رس سے پیدا ہونے والے شہد پر نہیں بلکہ اس شہد کے خلاصے پر