خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 204

خطبات طاہر جلد ۹ 204 خطبہ جمعہ ۱۳ را پریل ۱۹۹۰ء زیادہ روشن اور واضح کر کے دکھایا جا رہا ہے۔قرآن کریم کی متعدد آیات میں سے جو دو وقت کی رعایت سے میں نے آج چنی ہیں۔ایک دو اور ہیں شاید بعد میں ان کا ذکر آجائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔سَأَصْرِفُ عَنْ أَيْتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَا وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ذلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غُفِلِينَ (الاعراف: ۱۴۷) سَأصْرِفُ عَنْ ايْتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ میں ان لوگوں کے منہ اپنے نشانات سے اور اپنی آیات سے پھیر دوں گا جو زمین میں تکبر کرتے ہیں اور ان کو اس بات کا کوئی حق نہیں۔پس سب سے بڑا نقصان متکبر کا یہ ہے کہ وہ ان نشانات کو جو قدرت میں ہر طرف پھیلے پڑے ہیں ان کو دیکھ کر ان سے استفادہ نہیں کر سکتا اور ان کو سمجھ نہیں سکتا۔وہ اپنی آنکھیں ان کو دیکھتے ہوئے پھیر لیتا ہے۔پس ایک دنیا دار کا قانونِ قدرت کا مطالعہ اسی وجہ سے اس کو کوئی فائدہ نہیں دیتا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ میری ذاتی عظمت ہے کہ میں نے یہ باتیں معلوم کی ہیں۔ہر دریافت کے نتیجے میں اس کی انا بلند تر ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ دیکھو میں نے دنیا کو یہ دولت دی ہے کہ میں یہ راز سمجھ گیا ہوں حالانکہ اگر عرفان میں تکبر نہ ہوتا تو ہر مطالعہ اس کو زیادہ عاجز کرتا چلا جاتا ہے۔پس سائنس کی دنیا میں بھی ہمیں ایسے عاجز بندے دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے جتنا زیادہ خدا کے رازوں پر سے پردے اٹھانے کی سعادت پائی اتنا ہی زیادہ وہ عاجز اور منکسر المزاج ہوتے چلے گئے۔نیوٹن کا وہ فقرہ آج تک دنیا کے لٹریچر میں بارہا Quote کیا جاتا ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی آخری عمر میں کہا کہ دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں نے بہت کچھ دریافت کر لیا بہت سے علوم سے پردے اٹھائے ، ایک نیا جہان زاویہ نگاہ کا تمہیں بخشا ہے لیکن میں جب اپنے او پر غور کرتا ہوں اور اپنی علمی